پاکستان میں سیاسی اور بے یقینی کا جمہوری سفر سوالیہ نشان ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کو مختلف حربوں سے ہٹایا گیا جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی اور بے یقینی کا جمہوری سفر سوالیہ نشان ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 70 سال کے دوران بہت سے ملک جو ہم سے پیچھے تھے وہ آگے نکل گئے جب کہ 1960 میں پاکستان کو جاپان کے بعد ابھرتی ہوئی معیشت کہا جاتا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نوے کی دہائی میں پاکستان کی ترقی کی شرح بلند ترین تھی لیکن 2،2 سال میں حکومتیں برطرف کر کے 90 کی دہائی کو غیر مستحکم کیا گیا جب کہ وزیراعظم جونیجو کے ساتھ کیا خرابی تھی وہ تو بہت معصوم وزیراعظم تھے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ترقی کرنے والے ممالک میں طویل استحکام کا دور نظر آئے گا لیکن پاکستان میں 70 سال میں ایک بھی جمہوری وزیراعظم 5 سال پورے نہ کرسکا اور اب افغانستان بھی ہمیں پیچھے چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہاں بھی حکومتوں میں تسلسل دیکھنے میں آرہا ہے ۔
وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ دس سال میں ہم نے بلند ترین ترقی کی شرح 5.3 فیصد حاصل کی اور جب من موہن سنگھ بھارت کے وزیر خزانہ تھے تو وہ سرتاج عزیز سے اصلاحات کے ایس آر او مانگتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …