’چیف جسٹس دوسرےمعاملات کے بجائے 18 لاکھ زیر التواء مقدمات پر توجہ دیں‘سابق وزیر اعظم نواز شریف

اسلام آباد(میڈیا92نیوز)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے ملاقات کے کچھ دیر بعد ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف نے چیف جسٹس پر اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ تماشا جو آپ یہاں دیکھ رہے ہیں زیادہ دن نہیں چلے گا‘۔
اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے وزیر اعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کے حوالے سے بار بار سوال پوچھے جانے کے باوجود جواب دینے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن سپریم کورٹ کے میڈیکل کالجوں کے خلاف اقدامات اور ہسپتالوں کے دوروں کا نشانہ بھی ہم ہیں کیونکہ ہمارا خاندان ایک فلاحی ادارہ شریف میڈیکل سٹی چلاتا ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان کے خاندان کو نشانہ بنانا ہے لیکن یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ انھیں مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے ہٹانے کے بعد پارلیمنٹ کا کردار دوسروں کے ہاتھ میں چلا گیا کیونکہ انھیں پروویژنز آف الیکشن ایکٹ 2017 کو ختم کیا گیا تھا اور اور ایگزیکٹو کا کردار بھی چیف جسٹس نے اپنے سو موٹو کے ذریعے اپنے ذمے لے لیا ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوامی معاملات پر ایکشن آزادی سے لیں لیکن مختلف عدالتوں میں زیر التوا 18 لاکھ مقدمات کا بھی کچھ کیا جانا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کو دوسرے کے بجائے ان معاملات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

جینیات سے وابستہ تناؤ ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتا ہے

بوسٹن: حال ہی میں ہونے والے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ جینیاتی طور پر …