پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا نیب کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار،چیئرمین طلب

اسلام آباد: (میڈیا92نیوز)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیر التوا کیسز پر بریفنگ طلب کرلی جبکہ چیئرمین نیب کو بھی بلا لیا گیا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس ہوا جس میں نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر ڈیم کی تعمیر کا معاملہ زیر غور آیا۔
اجلاس کے دوران نیب حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں جس پر پی اے سی نے نیب کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی بریفنگ طلب کرلی جبکہ زیرِ التوا کیسز کی تفصیلات بھی مانگ لیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بریفنگ کے موقع پر چیئرمین نیب کو بھی موجود رہنے کی ہدایت کردی جبکہ چیئرمین پی اے سی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ 10 اپریل کو بریفنگ کے موقع پر چیئرمین نیب بھی موجود ہوں تو بہتر ہے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں بے ضابطگیوں کا انکشاف
اجلاس کے دوران ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی آڈٹ رپورٹ 17-2016 بھی زیر غور آئی جس میں ایچ ای سی میں 11 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔
پی اے سی کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں ملک کی بڑی جامعات کے ترقیاتی منصوبوں میں بھی ایک ارب 67 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی لاہور، قائد اعظم یونیورسٹی اور کامسیٹس اسلام آباد کے منصوبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کامسیٹس لاہور اور قائد اعظم یونیورسٹی کے توسیعی منصوبوں کے فنڈز خلاف قواعد کمرشل بینکوں میں رکھے گئے۔چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز کے بینک اکاؤنٹس نیشنل بینک میں نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی جس پر کامسیٹس حکام کا کہنا تھا کہ غلط فہمی کی بنا پر نجی بینک میں اکاؤنٹ کھولا اب اکاؤنٹ نیشنل بینک میں کھول لیا ہے۔
اجلاس کے دوران 2002 سے 2003 اور 2009 سے 2010 تک آڈٹ اعتراضات پر ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹس پی اے سی میں پیش کر دی گئیں۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پی اے سی تمام زیر التوا رپورٹس جمع کروا دے گی۔
پی اے سی اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ اپریل کے تیسرے ہفتے میں ایچ ای سی پر خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں زیادہ سے زیادہ وائس چانسلرز کو مدعو کیا جائے گا۔
چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ ’وائس چانسلرز ہمیں فنڈز اور آڈٹ سے متعلق ایشوز بتائیں، کیونکہ یہ تعلیم کا مسئلہ ہے اور پی اے سی اس میں بہتری لانے میں کردار ادا کرے گی‘۔
سید خورشید شاہ نے ایچ ای سی کی یو نیورسٹیز کو دی جانے والی گرانٹ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ ’تھکی ہوئی جامعات کو گرانٹ دے کر رقوم ضائع کیوں کی جاتی ہیں‘۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ’جامعات پی ایچ ڈی کے لیے اپنی سلیکشن خود کیوں نہیں کر سکتیں، پی اے سی اس معاملے میں ایچ ای سی کی بادشاہت کی حمایت نہیں کرے گی‘۔
دریں اثنا پی اے سی نے پی ایچ ڈی پر بھیجنے کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پی اے سی کو مطمئن کیا جائے کہ موجودہ طریقہ کار درست ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جینیات سے وابستہ تناؤ ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتا ہے

بوسٹن: حال ہی میں ہونے والے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ جینیاتی طور پر …