شامی فوج کی سکول پربمباری،16بچوں سمیت20جاں بحق

دمشق، برلن،انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) شامی حکومت کی طرف سے مشرقی غوطہ میں عوام کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے، شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ شامی آبزرویڑی کے مطابق گزشتہ روز عربین ٹاﺅن میں سکول پر شامی طیاروںکی وحشیانہ بم باری سے16بچے اور 4خواتین جاں بحق اور50افراد زخمی ہوگئے۔ المرصد نے بتایا کہ شہری دفاع کے اہل کار اس وقت ملبے کے نیچے سے لوگوں نکالنے میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف شدت پسند تنظیم داعش کے جہادیوں نے شامی دارالحکومت دمشق کے چھوٹے سے ضلع القدم پر قبضہ کرلیا ہے، بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسند سرکاری فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اس ضلع میں داخل ہوگئے اور36شامی فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ ادھر دائیں بازو کی عوامیت پسند جرمن سیاسی جماعت اے ایف ڈی کے ارکان پارلیمان نے شام کے دورے سے واپسی کے بعد برلن حکومت سے شام کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شامی شہروں کے نجی دورے سے واپسی کے بعد اے ایف ڈی کے ارکان نے کہاکہ شام کے کئی علاقے مہاجرین کے لئے محفوظ ہیں۔ترکی کے صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ شام میں کردوں کے خلاف ترک عسکری کارروائیوں کو وسعت دی جائے گی اورعراق میں بھی کردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے جائینگے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی حکومت نے کہاہے کہ شام کے جنگ زدہ علاقے سے80ہزار افراد کو نکال لیا گیاہے، غوطہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی آپریشن جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …