عمران خان نےپیپلزپارٹی کےامیدوار ڈپٹی چیئرمین مانڈوی والاکو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔

سینیٹ چیئرمین کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی حمایت کےبعد بلوچستان سے منتخب ہونے والے آذاد امیدوار صادق سنجرانی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آگئے ہیں۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے ایک روز قبل پی ٹی آئی نے پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں وفد میں ہونے والی ملاقات کے بعد عمران خان نے پی پی پی کے ڈپٹی چیئرمین کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے صادق سنجرانی کو امیدوار بنانے کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی نے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ وعدے کے مطابق عبدالقدوس بزنجو پینل کے امیدوار اور پی پی پی کے نامزد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ووٹ دیں گے۔
خیال رہے کہ بلوچستان سے آزاد منتخب ہونے والے صادق سنجرانی کو پی پی پی قیادت کا قریبی تصور کیا جاتا ہے جن کی حمایت کے عوض پی پی پی نے ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ بھی مانگ لیا جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے چار سینیٹرز نے بھی پی پی پی کے ڈپٹی چیئرمین کے لیے ووٹ دینے کی ہانمی بھری ہے۔
پی پی پی کی جانب سے تاحال کسی امیدوار کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سلیم مانڈوی والا ڈٌپٹی چیئرمین سینیٹ کے مضبوط امیدوار ہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پی پی پی کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کی حمایت کا اعلان عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں وفد کی بنی گالا آمد کے بعد کیا جہاں بلوچستان سے منتخب ہونے والے نومنتخب سینیٹرز بھی شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے امیدوار کے انتخاب کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کو صوبے سے منتخب سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی لیکن آزاد امیدواروں نے انھیں معقول جواب نہیں دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے حاصل بزنجو کو بلوچستان سے نومنتخب آزاد سینیٹرز اور حکمران جماعت کے درمیان جاری چپقلش سے دور رہنے کا مطالبہ کیا۔
‘مسلم لیگ (ن) اور اتحادی اب بھی رضاربانی کے حق میں ہیں’
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں نے حکمت عملی طے کر لی ہے۔
حاصل بزنجو نے اتحادیوں کی مشاورت کےبعد کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور اتحادی اس وقت بھی رضاربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانا چاہتی ہے اور اگر کل تک پی پی پی نے اپنے امیدوار کا اعلان نہ کیا تو نواز شریف خود امیدواروں کا اعلان کردیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حاصل بزنجو نے کہا کہ اتحادیوں نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے اپنی حمکت عملی مکمل کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ملائکہ اروڑا کا سابق شوہر ارباز خان کیساتھ فیملی ڈنر، ویڈیو وائرل

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ و ماڈل ملائکہ اروڑا نے اپنے سابق شوہر ارباز خان اور اُن کی …