پاناما فیصلے میں نوازشریف کو گاڈ فادر یا سسیلین مافیا نہیں کہا، جسٹس کھوسہ

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر/میڈیا 92نیوز) سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاناما کیس کے فیصلے میں نوازشریف کو کہیں گاڈ فادر یا سسیلین مافیا نہیں کہا گیا۔

سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو پاناما کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس میں بینچ کے رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک نوٹ بھی لکھا تھا جس میں مشہور زمانہ ناول گاڈ فادر کا حوالہ دیا گیا تھا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ججز کے نوٹ پر شدید تنقید کی۔

سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی تو اس دوران پاناما کیس کا ذکر بھی ہوا۔

دوران سماعت پاناما کیس سننے والے عدالتی بینچ کے رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ پاناما کیس فیصلے میں نوازشریف کو کہیں گاڈ فادر یاسسیلین مافیا نہیں کہا گیا، آج کل بہت سی ایسی باتیں چل رہی ہیں جوعدالت سے منسوب کی جاتی ہیں مگر ججز نے ایسی کوئی باتیں نہیں کیں۔

معزز جج نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ نے پاناما فیصلہ پڑھا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا جی پڑھا۔

جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیئے کہ مجھے بتادیں پاناما سے متعلق فیصلے میں ایسی بات ہو، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں لکھا گیا۔

معزز جج نے کہا کہ وفاق کانمائندہ کہہ رہا ہےایسا نہیں کہا گیا، سیلیسن مافیا کی بات ہوئی، نہال ہاشمی نےبیان دیا زمین تنگ کر دیں گے، پوچھاگیا ججوں کے بچوں کوتو سسلین مافیا قتل کرتا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سوال کرتی ہےکسی سیاسی جماعت کا سربراہ کیا اسمگلر، قاتل چوریا ڈاکو ہوسکتا ہے، کئی الفاظ حذف کرکےکچھ الفاظ چھاپ دیئے جاتے ہیں، سپریم کورٹ کی طرف سے وہ باتیں منسوب نہ کریں جوہم نے فیصلوں میں نہیں کہیں، تاثرکو خبر بنا کر نہیں چھاپنا چاہیئے۔

یہ بھی پڑھیں

جینیات سے وابستہ تناؤ ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتا ہے

بوسٹن: حال ہی میں ہونے والے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ جینیاتی طور پر …