افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات ہی ہیں، خواجہ آصف

ماسکو(بیورو رپورٹ/میڈیا 92نیوز) وزیرخارجہ خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیچھے نہیں ہٹا تاہم دوسروں کی جنگ اپنی سر زمین پر نہیں لڑسکتے جب کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔

ماسکو میں روسی ہم منصب سرگئی لیوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ افغانستان میں اس وقت تکلیف دہ صورتحال ہے ، وہاں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ، منشیات سے دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی پرتشویش ہے، افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان اور روس دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔

افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان اور روس دونوں کے لیے خطرہ ہیں، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن واستحکام کا خواہاں ہے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، بین الاقوامی افواج نے گزشتہ 17 سال میں افغانستان میں کچھ حاصل نہیں کیا اوراب اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے پاکستان اور دوسرے ممالک کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، افغانستان میں طالبان بندوبستی علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ مفاہمتی عمل ہی وہاں قیام امن کے لیے آخری آپشن ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی امن خصوصاً داعش کے خاتمے میں روس کا اہم کردار ہے ، ہم روس کے ساتھ تجارت، توانائی، صنعت، دفاع، دفاعی پیداوار، کلچر اور تعلیم سمیت تمام شعبوں میں تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان رکنیت کی حمایت پر روس کے مشکور ہیں، بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی اور بڑھتے ہوئے اثرورسو خ پرتشویش ہے، شمالی اور مشرقی افغانستان میں داعش کی موجودگی روس کے لیے خاص طورپر پریشان کن ہے ،اس سے دہشت گردوں کے وسطی ایشیا میں داخل ہونے کاخدشہ ہے جہاں سے ان کے لیے روس تو پہنچنا مشکل نہیں۔

سرگئی لیوروف نے کہا کہ امریکی افواج کی موجودگی میں وہاں داعش کا قدم جمانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے ایسے بغیرنشان کے ہیلی کاپٹرزکا ذکر بھی کیا جو دہشت گردوں کے علاقوں میں آتے جاتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …