پسند کا فیصلہ کرایا جائے گا، نواز شریف، نگراں جج مرضی کا ٹرائل کرائیں گے، اپیل بھی انہی کے پاس جائے گی

اسلام آباد(میڈیا پاکستان)سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کا معاملہ نا اہلی تک نہیں جانا چاہیے تھا ٗپرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے کا فیصلہ ہماری حکومت نہیں عدلیہ کا تھا ٗگھر بھیجا گیا ہے تو گھر جارہا ہوں ٗکوئی پاورشونہیں کررہا ٗملک میں جمہوریت اور پالیسیوں کا تسلسل نہ رہا تو پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکے گا‘20کروڑعوام کے منتخب وزیراعظم کو اس طرح ذلیل اوررسوانہیں کرناچاہئے‘ابھی کہیں نہیں جا رہا‘سنچری مکمل کرنی ہے‘سیاست میں ہی رہوں گا ۔
منگل کو پنجاب ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری نااہلی کے فیصلے کا احترام تو ہے لیکن فیصلے سے اختلاف بھی ہے‘ انہوںنے کہاکہ گھر بھیجا گیا ہے تو گھر جارہا ہوں، گھر جانا ’’پاور شو ‘‘نہیں ہے‘اس میں پریشانی کیسی‘ملک کے قیام سے اب تک 18وزرائے اعظم گزرے ہیں تاہم ایک کو بھی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی گئی،آئین توڑا گیا، وزرائے اعظم کو پھانسیاں دی گئیں،ملک بدر کیا گیا، کیا عوام کے ووٹ کواسی طرح دھتکارا اور ذلیل کیا جائیگا ٗان تمام سوالوں کے جواب ڈھونڈنا ہوں گے‘ ان سوالوں کا جواب سول سوسائٹی، میڈیا اورہم سب پر فرض ہے نواز شریف نے کہا کہ مجھے پہلی مرتبہ صدر نے نکالا ٗدوسری بار ڈکٹیٹر نے ہائی جیکر بنا دیا اور تیسری مرتبہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر عدلیہ نے مجھے نکال دیا اور اب نیب میں پہلی مرتبہ نجی کاروبار کا ریفرنس تیار کیا جارہا ہے ٗمعاملہ آج کا نہیں میرے اسکول کے دور کا ہے‘پہلی مرتبہ نیب پر سپریم کورٹ کانگراں جج بٹھایا گیا ہےجو اپنی پسند کا فیصلہ کرائیں گے، مرضی کا ٹرائل کرائیں گے اور پھر اپیل بھی اسی جج کے پاس جائے گی،یہ سب پہلی بار ہو رہا ہے‘ مجھے لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ جے آئی ٹی میں نہ جائیں‘ وزیراعظم کے دفتر کے وقار پر سمجھوتہ نہ کریں، میں نے کہا کہ اس موقع پر پیچھے ہٹا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے۔
انہوںنے کہاکہ سیاستدانوں نے ہمیشہ مسائل کا حل تلاش کیا ہے،جمہوری حکومت کے ہوتے پاکستان نے کبھی جنگ میں حصہ نہیں لیا ٗ1971 کی جنگ کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو سنبھالا‘ میں بھی خطے میں امن اور مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہوں، مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار بند ہونا چاہیے ‘کشمیر کے مسئلے کا حل جنگ سے نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر نکالنا چاہیے‘میں نے جوقربانیاں دیں ان کا فائدہ ملک کو ہونا چاہیے‘جے آئی ٹی کے کام کا طریقہ کار سب کے سامنے تھا، ہمیں سب نظر آ رہا تھا۔
پاناما کیس کو پہلے غیرسنجیدہ اور بے وقعت قرار دیا گیا، پٹیشن کو رد کیا گیا اور پھر اسی کیس کو آگے بڑھا دیا گیا۔اس موقع پر ایک صحافی کی جانب سے سکیورٹی خدشات سے متعلق سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ابھی کہیں نہیں جا رہا، ابھی تو میری سنچری مکمل ہونی ہے‘پاکستان میں لولی لنگڑی جمہوریت نہیں ہونی چاہیے، آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے، جو کچھ پاکستان میں ہوتا ہے وہ پوری دنیا میں نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں

خلا میں دنیا کی پہلی فلم کی شوٹنگ مکمل ہوگئی

خلا میں فلمائی گئی اس پہلی فلم کو روسی خلائی تحقیقی ادارے ’’روسکوسموس‘‘ کی سرپرستی …