گلالئی الزامات کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی منظور نہیں: تحریک انصاف

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری نے پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی عائشہ گلالئی کی جانب سے چیئرمین عمران خان پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کو مسترد کردیا۔
تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو خط لکھ کر پارلیمانی کمیٹی پر پی ٹی آئی کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا۔
شیریں مزری کا کہنا تھا تحریک انصاف عائشہ گلالئی کو ہراساں کرنے کے الزام کی تحقیقات کرنے کے لیے قائم کی جانے والی حکومتی کمیٹی کو مسترد کرتی ہے جن میں اکثر اراکین کا تعلق حکومتی حلقے سے ہے
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین پر مشتمل کمیٹی کی غیر جانبداری مشکوک ہوگی اور مجوزہ کمیٹی کو پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے بھی استعمال کیے جانے کے خدشات موجود ہیں۔
خاتون رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ عائشہ گلالئی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے برطانوی پارلیمانی کمشنر کی طرز پر غیر جانبدار تحقیقاتی نمائندہ مقرر کیا جائے۔
اپنی سیاسی حریف جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین ایک ہی وقت میں الزام لگانے والے اور منصف نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف عائشہ گلالئی کے الزامات کی غیر جانبدار تحقیقات کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف کے سربراہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان انہیں موبائل پر شادی کے پیغامات بھیجا کرتے تھے۔
عائشہ گلالئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عمران خان خان کو شاید نفسیاتی مسئلہ بھی ہے، وہ دو نمبر پٹھان ہیں، وہ باصلاحیت لوگوں سے خوف و حسد محسوس کرتے ہیں اور صرف خود کو عقلمند اور باقی سب کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔‘
تحریک انصاف چھوڑنے والی خاتون رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے قومی اسمبلی میں درخواست جمع کرائی تھی، جس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گلالئی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا

یہ بھی پڑھیں

پٹرولیم مصنوعات ایک بار پھر مہنگی ہونے کا امکان

وگرا نے قیمتوں میں 10 روپے فی لٹر تک اضافے کی سمری ارسال کردی، حتمی …