کتابوں سے بھرا گھرانہ، بچوں کا دماغ توانا

تل ابیب، اسرائیل: اگرچہ اس پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے کہ بچے کتاب کو پڑھ سکیں یا نہیں تب بھی کتابوں کا ان دیکھا مثبت احساس ان پر حاوی رہتا ہے۔ اب اس ضمن میں نئی تحقیق ہوئی ہے کہ اوائل عمر میں کتابوں سے شغف رکھنے والے بچوں کی دماغی صلاحیت دیگر کے مقابلے میں بڑھاپے میں بھی برقرار رہتی ہے اور وہ دماغی زوال اور دیگر امراض کے شکار نہیں ہوتے۔

اسرائیل کی بن گوریون یونیورسٹی کی پروفیسر ایلا شوارٹز ایک عرصے سے بڑھاپے ، الزائیمر اور مطالعے کے تعلق پر غور کررہی ہیں۔ انہوں نے 65 سال تک کے 8239 ایسے افراد کا جائزہ لیا جو کسی دماغی بیماری مثلاً فالج، الزائیمر اور نسیان سے محفوظ تھے۔ ان تمام افراد کا 2011 سے 2013 تک جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے جن افراد کا بچپن کتابوں کی بڑی الماری کے ساتھ گزرا تھا انہوں نے دماغی صلاحیت کے کئی ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی۔

اس تحقیق کا خلاصہ ہے کہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی کتابیں رکھنے، ان سے کھیلنے اور پڑھنے کا عادی بنایا جائے۔ تحقیقی سروے میں شامل افراد میں سے 55 فیصد خواتین شامل تھیں۔ بچپن میں جن خواتین نے کتابوں میں وقت گزارا تھا وہ بھی بڑھاپے میں دماغی طور پر بہت مضبوط دکھائی دیں۔ ان میں فوری یادداشت، ذخیرہ الفاظ اور برجستہ ادائیگی کی شرح دیگر کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔
پروفیسر ایلا اور دیگر ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا کہ اگر بچے پڑھ نہیں سکتے تب بھی ان کے لیے تصاویر والی کتابیں خریدی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے لائبریری بنانے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پٹرولیم مصنوعات ایک بار پھر مہنگی ہونے کا امکان

وگرا نے قیمتوں میں 10 روپے فی لٹر تک اضافے کی سمری ارسال کردی، حتمی …