ورزش سے خون کی نئی رگیں بھی پیدا ہوتی ہیں

جرمنی: سائنس کے علم میں ایک عرصے سے یہ بات تھی کہ باقاعدہ ورزش سے خون کی نئی رگیں وجود پذیر ہوسکتی ہیں لیکن اس عمل کو طبی اور سائنسی لحاظ سے نہیں دیکھا گیا تھا۔ تاہم اب اس کے کچھ ثبوت چوہوں پر تجربات میں سامنے آئے ہیں۔

نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ورزش سے کئی اقسام کی نئی نسیں اور رگیں قدرےتیزی سے ظہورپذیر ہوتی ہیں۔ زیورخ میں واقع ای ٹی ایچ ایچ یونیورسٹی سے وابستہ ورزش کی ماہر پروفیسر کیٹرین ڈی بوک کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں ہرسال لاکھوں افراد کے اعضا محض اس وجہ سے بریدہ کئے جاتے ہیں کہ ان میں خون کا بہاؤ تھم جاتا ہے اور ایسے مریض ذیابیطس سے تعلق رکھتےہیں۔

ان کے مطابق نئی تحقیق کی بدولت خون کی رگوں کی افزائش اور پٹھوں میں ان کے کردار کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح ہم بہت سے امراض کا علاج کرسکیں گے۔ اس کے لیے انہوں نے افزائش شدہ انسانی خلیات اور چوہوں پر کئی تجربات کئے ہیں۔
پروفیسر کیٹرین اور ان کے ساتھیوں نے خون کی انتہائی باریک نالیوں پر ورزش کے اثرات جاننے کی کوشش کی ۔ ان کے پیشِ نظر خاص طور پر خون کی رگوں کی بیرونی دیواریں تھیں جو اینڈوتھیلیئل خلیات (سیلز) پرمشتمل ہوتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ اینڈوتھیلیئل خلیات کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ان کی شناخت ایک خاص مالیکیول اے ٹی ایف فور سے ہوسکتی ہے۔ معلوم ہوا کہ جن خلیات میں اے ٹی ایف فور کی بہت کم مقدار ہو ان سے جو باریک نسیں بنتی ہیں وہ پٹھوں کے بے رنگ یا سفید ریشوں تک غذائی اجزا پہنچاتی ہیں۔ جبکہ اے ٹی ایف فور کی خاصی مقدار والی نسیں خون کی نالیوں کا حصہ ہوتی ہیں اور خون کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پھر انکشاف ہوا کہ ورزش سے اینڈوتھیلیئل خلیات میں اے ٹی ایف فور کو بڑھاتی ہیں اور حیرت انگیز طور پر یہ عمل خلوی تقسیم کے وقت ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح نت نئی باریک رگیں (کیپلریز) وجود میں آتی ہیں۔ لیکن ورزش کا کم اے ٹی ایف فور والے رگوں کے نظام پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ یہاں تک معلوم ہوا کہ جن اینڈوتھیلیئل خلیات میں اے ٹی ایف فور کوٹ کوٹ کر بھری ہو وہ ہمہ وقت نئی نسیں بنانے کے لیے تیار رہتے ہیں جسے سائنسدانوں نے ’اسٹینڈ بائے‘ اثر کا نام دیا ہے۔

اب اے ٹی ایف فور کو جانتے ہیں جو خلیے کے اندر ایک چوکیدار قسم کا پروٹین ہوتا ہے۔ اس کی بدولت ورزش کرتے ہی نئے پروٹین اور ڈی این اے بنتے ہیں اور خون کی نئی نالیں وجود میں آتی ہیں۔

اگرچہ چوہوں پر تحقیق ہی سے انسانی کھوج کے راستے کھلتےہیں لیکن اس مرحلے پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاید انسانوں میں بھی یہ عمل پایا جاتا ہے۔ اس کا ایک عملی مظاہرہ تیزدوڑنے والے کھلاڑیوں میں دیکھا گیا ہے کہ مسلسل دوڑنے سے ان کے دل میں مزید شریانیں اور رگیں بننے لگتی ہیں۔ تو آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ورزش سے یہ عمل تیز ہوجاتا ہے۔ اس تحقیقی کی روداد سیل میٹابولزم میں شائع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

طالبان نے کابینہ کی تقریب حلف برداری منسوخ کردی

دوحہ: ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کابینہ کی تقریب حلف برداری منسوخ کرنے کا اعلان …