انسانی گردے میں بلڈ پریشر بتانے والے’بیرومیٹر‘ خلیات دریافت

ورجینیا:
سائنسدانوں نے انسانی گردے کے اندر بعض ایسے خلیات دریافت کئے ہیں جو دورانِ خون کے دباؤ(بلڈپریشر) کو محسوس کرتے ہیں۔ انہیں ہم جسمانی بیرومیٹر قرار دے سکتے ہیں۔

جامعہ ورجینیا کے ماہرین نے کہا ہے کہ یہ خلیات بلڈ پریشر سینسر کی طرح کام کرتے ہوئے دباؤ کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔ ماہرین کو شبہ تھا کہ یہ خلیات گردے میں ہوسکتے ہیں لیکن اب اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اس سے قبل گردن میں کاروٹِڈ سائی نس، اور دل کے پاس اورطہ کے ساتھ یہ سینسر نما خلیات دریافت ہوچکے ہیں۔ یہ خون کے دباؤ پر نظر رکھتے ہیں اور بلڈ پریشر میں کمی بیشی کی صورت میں دماغ کو ہدایت دے کر اسے نارمل کرنے میں مددیتےہیں۔

ماہرین کا 1957 سے خیال تھا کہ گردے میں موجود ایک قسم کے ’رینن‘ خلیات بلڈ پریشر کو محسوس کرنے اور اعتدال میں رکھنے کا کام کرتےہیں۔ لیکن 60 برس سے ان کا سراغ نہ مل سکا۔ ورجینیا یونیورسٹی کے ماہرین نے گردے کے بعض خلیات کو تجربہ گاہی طشتری میں رکھا تو معلوم ہوا کہ ان میں بیروریسپٹر ہیں جو ایک طرح کے مشینی ٹرانسڈیوسر کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ یہ خلیے سے باہر دباؤ محسوس کرکے اس کا سگنل اندر نیوکلیئس (مرکزے) تک بھیجتے ہیں۔

جب رینن خلیات پر دباؤ بڑھایا گیا تو رینن ون نامی ایک جین کی سرگرمی بھی کم ہوئی اور جب دباؤ کم کیا گیا یعنی بلڈ پریشر کم ہوا تو رینن ون کی سرگرمی بڑھ گئی۔ معلوم ہوا کہ اس طرح وہ بلڈ پریشر کو اعتدال پر رکھتے ہیں۔

اس اہم دریافت پر تحقیقی مقالہ لکھنے والی ڈاکٹر ماریہ لوپیز کہتی ہیں کہ یہ ایک انوکھی دریافت ہے جس میں گردے کے اندر بیروریسپٹر دریافت ہوئے ہیں جو کسی خلیے کی طرح بلڈ پریشر محسوس کرکے فشارِ خون کو معمول پر رکھتےہیں۔

اس تحقیق سے نہ صرف بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ اس موذی مرض کو قابو کرنے کے نئے طریقہ علاج بھی سامنے آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

طالبان نے کابینہ کی تقریب حلف برداری منسوخ کردی

دوحہ: ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کابینہ کی تقریب حلف برداری منسوخ کرنے کا اعلان …