یہ پیوند حسبِ ضرورت انسولین خارج کرسکتا ہے

نیویارک:
تھری ڈی پرنٹنگ اور جدید ترین حیاتیاتی مادوں سے ایک پیوند (امپلانٹ) تیار کیا گیا ہے جو ٹائپ ون ذیابیطس مریضوں کے لیے حسبِ ضرورت انسولین خارج کرتا رہے گا۔

یہ تحقیق اپنے آخری مراحل میں ہے جسے رائس یونیورسٹی کے بایو انجینیئر نے ڈیزائن کیا ہے۔ اسے ذیابیطس کی عالمی تنظیم جے ڈی آر ایف نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ کاوش دو پی ایچ ڈی طالبہ اور ان کے استاد نے کی ہے جن کے نام اومید وائسے اور جورڈن مِلر ہیں۔ جورڈن مِلر گزشتہ 15 برس سے ایسے پیوند کی تیاری کررہے ہیں اور انہیں نے ایک خاص تکنیک واس کلچر استعمال کی ہے جس میں خون کی باریک نالیوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے اور اب اسے وہ تھری ڈی پرنٹنگ کی طرف لے آئے ہیں۔

اس میں انسانی خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بایوانجنیئرنگ سے بدل کر ایسےبی ٹا خلیات میں بدلا گیا ہے جو وقت پڑنے پر انسولین کی درست مقدار خارج کرتے ہیں۔ اس طرح خون میں شکر(گلوکوز) کی مقدار کو ایک خاص درجے پر رکھا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر مِلر کہتے ہیں کہ انسانی لبلبے میں خلیات ایک خاص انداز سے مرتب ہوتے ہیں اور ان میں خون کی رگیں ایک انداز سے مرتب ہوتی ہیں۔ دونوں ماہرین نے فطرت کے یہ نقوش ایک چپ پر چھاپنے کا ارادہ کیا اور اس پر دن رات تحقیق کی۔ اس ضمن میں پہلا ہدف ٹائپ ون ذیابیطس کو بنایا گیا جو ایک امنیاتی بیماری ہے۔ اس بیماری میں لبلبہ انسولین کی افزائش روک دیتا ہے جسے ٹیکوں سے پورا کیا جاتا ہے۔

نیا پیوند جب چوہے پر آزمایا گیا تو اس نے چھ ماہ تک خون میں شکر کی مقدار کو قابو کئے رکھا۔ اس کام کے لیے بی ٹا سیلز کو جینیاتی انجینیئرنگ سے گزارا گیا تھا جو خون کی سطح میں اتارچڑھاؤ کو فوری طور پر محسوس کرسکتے تھے۔ لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ پیوند کو جسم کے اس مقام پر لگایا جائے جہاں وہ خون میں شکر کی زیادتی کو محسوس کرکے اصل لبلبے کی طرح انسولین خارج کرسکے۔ اس کےلیے ضروری تھا کہ اول انسولین بنانے والے خلیات 100 مائیکرون سے زائد نہ ہوں ۔

اسی کے پیشِ نظر تھری ڈٰی پرنٹنگ میں تبدیلیاں کرکے نسیجوں کی ری ماڈلنگ کی گئی۔ انسولین بنانے والے خلیات کو احتیاط سے ایک ہائیڈروجل پررکھا۔ ہائیڈروجل کا یہ طریقہ خلوی علاج میں خلیات کو کیپسول بند کرنے میں اپنی افادیت ثابت کرچکا ہے۔ ان گول موتی نما کیپسول میں اتنے باریک سوراخ بنائے گئے ہیں جن سے انسولین خارج ہوتی رہتی ہے لیکن امنیاتی خلیات انہیں اجنبی سمجھ کر نشانہ بنانے سے باز رہتے ہیں۔

لیکن اب بھی انسانوں پر ان کی آزمائش کا مرحلہ خاصا دور ہے اور توقع ہے کہ ایک پیوند کئی ماہ یا ایک سال تک انسولین خارج کرنے لیے کافی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

طالبان نے کابینہ کی تقریب حلف برداری منسوخ کردی

دوحہ: ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کابینہ کی تقریب حلف برداری منسوخ کرنے کا اعلان …