ٹوٹی ہڈیاں جوڑنے اور زخم جلدی بھرنے کیلیے ’’بجلی بھری‘‘ پٹی

وسکونسن / بیجنگ:
امریکی اور چینی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر تحقیق کرتے ہوئے ایک ایسی پٹی ایجاد کرلی ہے جو اپنے لیے خود ہی بجلی بناتے ہوئے نہ صرف کسی زخم کو جلد مندمل کرسکتی ہے بلکہ ٹوٹی ہڈیوں تک کو بہت کم وقت میں جوڑ سکتی ہے۔

یہی نہیں، بلکہ کام مکمل ہوجانے کے بعد یہ پٹی جسم کے اندر خود ہی بے ضرر مادّوں میں تبدیل ہو کر تحلیل ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوچکا ہے کہ جسم کے متاثرہ مقام پر برقی برانگیختگی (معمولی سی اضافی بجلی) سے زخم مندمل ہونے اور ٹوٹی ہڈیاں جڑنے میں درکار وقت خاصا کم ہوجاتا ہے۔

البتہ، زخم یا متاثرہ مقام کو اضافی وولٹیج فراہم کرنے کےلیے دھاتی برقیروں کی ضرورت بھی ہوگی جنہیں جسم میں نصب کرنے اور واپس نکالنے کےلیے دو الگ الگ آپریشن کرنا ہوں گے جو اپنے آپ میں ایک الگ تکلیف دہ عمل ہے۔

یہی تکنیکی مسئلہ حل کرنے کےلیے امریکا اور چین کے مختلف تحقیقی اداروں سے وابستہ چینی ماہرین نے یہ پٹی تیار کی ہے جسے ابتدائی طور پر چوہوں میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔

اس پٹی کی بنیادی پرت ایک بے ضرر پولیمر سے بنائی کی گئی ہے جو پہلے ہی امریکی ادارہ برائے غذا و زراعت (ایف ڈی اے) سے منظور شدہ ہے۔

پولیمر والی پرت کے بالکل اوپر بجلی بنانے والا ایک ننھا سا آلہ جوڑا گیا ہے جسے ’’ٹرائبو الیکٹرک نینو جنریٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس طرح سے بجلی بنانے والے آلات میں دو الگ الگ مادّوں کی پرتیں ارد گرد ہونے والی حرکت کے باعث ایک دوسرے سے قریب اور دور ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بہت معمولی سی بجلی پیدا ہوتی ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس ایجاد کو ’’فریکچر الیکٹرو اسٹیمولیشن ڈیوائس‘‘ یا مختصراً ’’ایف ای ڈی‘‘ (FED) کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا آلہ ہے جو ٹوٹی ہوئی ہڈی کے مقام پر ’’برقی برانگیختگی‘‘ پیدا کرتا ہے۔

اپنی جسامت اور ڈیزائن میں بظاہر یہ زخم پر چپکائی جانے والی عام پٹیوں جیسی ہے لیکن قریب سے دیکھنے پر اس میں نصب ٹرائبو الیکٹرک نینو جنریٹر دیکھا جاسکتا ہے۔

چوہوں پر تجربات کے دوران اسے ان چوہوں پر آزمایا گیا جن کی ٹانگ کی ہڈی درمیان سے ٹوٹ گئی تھی اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے۔

جن چوہوں کی ٹانگوں پر یہ پٹی باندھی گئی تھی وہ صرف چھ ہفتے میں مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے جبکہ اس دوران وہ خاصی سہولت سے ادھر ادھر حرکت بھی کرتے رہے۔

ان کے برعکس وہ چوہے جن کی ٹانگوں پر یہ پٹی نہیں تھی، ان کی ٹوٹی ٹانگیں جڑنے میں خاصا وقت لگ گیا جبکہ بحالی کے دوران انہیں حرکت کرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

’’ایف ای ڈی‘‘ ان چھ ہفتوں کے دوران مسلسل تقریباً چار وولٹ والا کرنٹ موجود رہا جبکہ ٹانگ جڑ جانے کے بعد یہ خود ہی گھل کر ختم ہوگئی۔

فی الحال یہ تجرباتی پٹی صرف جسمانی حرکت سے بجلی تیار کرسکتی ہے جسے مزید بہتر کرتے ہوئے اس قابل بنانے کی کوششیں جاری ہیں کہ یہ جسم کی اندرونی میکانیکی توانائی، مثلاً بلڈ پریشر میں تبدیلی وغیرہ سے استفادہ کرتے ہوئے بھی بجلی پیدا کرسکے۔

ساتھ ہی ساتھ ’’ایف ای ڈی‘‘ کو انسانی استعمال کے قابل بنانے کےلیے بھی تجربات جاری ہیں۔

سرِدست یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ پٹی کب تک اسپتالوں اور ایمرجنسی سینٹروں میں استعمال کےلیے دستیاب ہوگی کیونکہ ابھی اسے تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ) کے کئی مراحل طے کرنا باقی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …