ذیابیطس میں جگر کا ’’خفیہ کردار‘‘ سامنے آگیا

ایریزونا:
انسولین کی دریافت کو 100 برس مکمل ہونے پر ایک اہم تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹائپ ون کے مقابلے میں 24 گنا زائد پائی جانے والی ٹائپ ٹو ذیابیطس میں جگر اور اس سےوابستہ نیوروٹرانسمیٹر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایریزونا سے وابستہ پروفیسر بنجامن رینکویسٹ کہتے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں ہم بطورِ خاص صرف خون میں گلوکوز کی سطح کم کرنے پر زور دیتے ہیں، تاہم انہوں نے دیگر امریکی جامعات کے ساتھ ملکر ایک تحقیق کی ہے۔ وہ نو برس سے موٹاپے، جگرکی چربی اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے تعلق پر غور کررہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ چربی اور چکنائیوں سے بھرا جگر انسولین کی حساسیت کو متاثرکرتا ہے۔ پروفیسر بنجامن اور ان کے ساتھیوں نےکہا ہے کہ جب جگر پر چکنائی بھرجاتی ہے، ایک طرح کے نیوروٹرانسمیٹر، گیما امائنوبیوٹائرک ایسڈ (گابا) کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ اس کا ذمے دار ایک طرح کا خامرہ (اینزائم) ہے جسے گابا ٹرانس امائنیز کا نام دیا گیا ہے۔ یہی خامرہ جگر میں گیما امائنوبیوٹائرک ایسڈ بڑھاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک انہبیٹری نیوروٹرانسمیٹر ہے جو دماغ کے مرکزی اعصابی نظام میں اعصابی سرگرمی یعنی سگنل بھیجنے کا عمل سست کرتا ہے۔

اب اس کا طریقہ واردات بھی سمجھ لیجئے۔ جب جگر اور دماغ کی برقی زبان یعنی گابا نیوروٹرانسمیٹرکا تعلق کمزور ہوتا ہے تو بدن کے اندر شکر کی مقدار کو تلف کرنے کے سگنل بھی کمزور ہوجاتے ہیں۔ یہ عمل چند دنوں میں ہی سامنے آنے لگتا ہے۔ اسی بنا پر امریکی ایف ڈی اے کی ایک منظورشدہ دوا پہلے سے ہی دستیاب ہے ۔ اسے انہبیٹر آف گابا ٹرانس امائنیز کا نام دیا گیا ہے جو فربہ افراد میں انسولین حساسیت کو بڑھاتی ہے۔ اسے کھاکر وہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کا نوالہ بننے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین بھی اس ضمن میں ورزش کرنے اور جگر کی چربی دور کرنے پر زور دے رہے

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …