مفتی عزیزالرحمان کیخلاف مقدس کتاب کی توہین کی دفعات شامل

لاہور:
مفتی عزیزالرحمان کی طالبعلم سے بدفعلی کی میڈیکل رپورٹ پولیس کو موصول ہوگئی، رپورٹ میں طالب علم سے زیادتی ثابت نہ ہوسکی۔پولیس نے مفتی کیخلاف مقدمے میں مقدس کتاب کی توہین اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل کر لیں۔

پنجاب فرانزک لیب کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق مفتی عزیز الرحمان کے نمونے میچ نہیں ہوئے،جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والے مدعی مقدمہ اور ملزم دونوں کے سیمپل لیے گئے تاہم کسی بھی طرح سے کوئی زیادتی کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد مزید شواہد لیب کو دئیے جائیں تو مزید فرانزک تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔

دوسری جانب پولیس نے مفتی عبدالعزیز کے خلاف مقدمے میں مقدس کتاب کی توہین اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل کر لی ہیں، مقدمے میں دو دفعات 295 بی اور 298 لگائی گئی ہیں، یہ دونوں دفعات نا قابل ضمانت ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کاچالان وڈیو شہادت کی بنیاد پرمکمل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …