محکمہ صحت کی ہدایات حقائق سے برعکس ہونے کے باعث فارمیسی فیلڈ کے لیے وبال بن چکی ہیں،ڈویثرنل چیر مین پاکستان کیمسٹ ایسوسی ایشن محمد اختر بٹ نے اعلامیہ جاری کر دیا

محمد اختر بٹ ڈویژنل چیرمین پاکستان کیمسٹ ایسوسی ایشن ملتان نے اپنے تحریری بیان میں کہا کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے
1=محمکہ صحت کی طرف سے ہدائت ہے 25 ڈگری ٹمریچر مینٹین ہونا چاہئے ہر سٹور کا۔اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب سارا دن ایئر کنڈیشنڈ چلے۔اب آپ ہی بتایئں کیا یہ اس مارجن میں ممکن ہے۔؟
2=محکمہ صحت کی طرف سے یہ بھی ہدائت ہے کہ کوالیفائڈ پرسن ہر وقت سٹور پر موجود ہو ۔اگر ہم کوالیفائڈ رکھیں تو ہر سٹور والے کو کم از کم 2 کوالیفائڈ رکھنے ہوں گے ۔کیوں ہمارے میڈیکل سٹوریا فارمیسی کی ٹائمنگ عام بزنس سے زیادہ ہوتی ہے۔آپ لوگ ہی بتایئں کہ موجودہ مارجن میں تو ہم ایک کوالیفائڈ افورڈ نہی کر سکتے تو 2 کیا ممکن ہیں ؟
3=شیڈول جی نافذ ہونے کے بعد تو ویسے ہی 90 پرسنٹ سٹور کا بزنس آدھا رہ جائے گا ۔اور اگر سارے کیٹیگری اے پر شفٹ ہونے کی کوشش کریں گے تو کیٹیگری اے کتنے میں ملے گی وہ آپ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں۔اور اس مارجن میں اس کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔
4=اس کے علاوہ ایکسپائری کے اشو ۔ہمارے مارجن کو اور کم کر دیتے ہیں۔
5=اس کے علاوہ نیسلے اور دوسرے ملک وغیرہ پر تو ملتا ہی 6 سے 7 پرسنٹ ہے۔
6=اور اب 1 پرسنٹ ایڈوانس ٹیکس ۔کیا یہ سب اس موجودہ مارجن میں ممکن ہے
۔تو ان سب مسائل کا حل کیا ہے۔
میرے خیال میں ان سب مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ ہم اپنا مارجن بڑھانے کیلئے پورے پاکستان میں تحریک چلائیں ۔پوری دنیا میں فارمیسی کا مارجن 30 سے 40 پرسنٹ ہوتا ہے۔کیوں کہ اس بزنس میں گورمنٹ کی پابندیاں ہوتی ہیں ۔آپ لوگ خود سوچیں اگر ہمارا مارجن 30 سے 40 پرسنٹ ہو جائے یا ڈاکٹر کو پوری دنیا کی طرح نسخہ برانڈ نام کی بجائے جینرک میں لکھنے کا پابند کیا جائے تو ہمارا کوئ مسئلہ مسئلہ نہ رہے
ہم خوشی سے ٹیکس بھی دیں۔ہم خوشی سے سارا دن اے سی چلا کر رکھیں۔تکہ ٹمریچر مینٹین رہے۔
ہم ہر وقت کوالیفائڈ پرسن کی موجودگی بھی ممکن بنا سکتے ہیں اور ہم گورنمنٹ کو ٹیکس بھی بخوشی دے سکے گے۔
صرف مارجن بڑھنے سے ہمارے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو کیا ہمیں اس سلسلے میں جدوجہد نہی کرنی چاہئے ۔بجائے اس کے ہم ہر کچھ عرصہ بعد احتجاج کریں کہ ہم یہ نہی مانے گے ہم وہ نہیں مانیں گے اور چند لوگ ہمارے جذبات سے کھیلیں تو کیوں نہ ہم اپنا مارجن بڑھانے کی تحریک چلایئں۔اور گورنمنٹ کو مجبور کریں کہ ہم سارے قوانین کو فالو کریں گے لیکن پہلے آپ لوگ ہمارا مارجن پوری دنیا کی طرح کریں ۔تو شائد ہماری زندگیوں میں سکون آجائے اور ہم سکون سے اپنے بال بچوں کیلئے اچھی اور حلال روزی کما سکیں
نوٹ (۔کمپنیوں کا مارجن 400 سے 500 پرسنٹ ہے ۔وہ ساری انوسٹمنٹ ڈاکٹرز پر کر کے ہمارا حق مار رہی ہیں ۔اور ہم مٹی کے مادھو بن کر نیسلے اور ملک وغیرہ صرف 7 پرسنٹ ہی بیچتے چلے آرہے ہیں اب مرے کو مارے شاہ مدار وہ کام ٹیکس ریکوری کا تمام تر اختیارات ھونے کے باوجود نہ حکومت اور نہ FBR, کر سکی فارما ڈسٹری بیوٹرز کے اور مینوفیکچکرز کے ذمے لگا دیا گیا کے بھی نان فائلر میڈیسن خرید کرے ان سے ٪1 اور فائلر سے آدھا پرسنٹ وصول کریں FBR اور حکومتی ذمے داری پوری کرنے کیلئے کون سے اختیارات استعمال کریں گے یہ ایڈوانس ٹیکس کی مد میں وصولی کریں ادویات پہلے قوت خرید سے باہر ہیں اب مزید اضافہ ہو گا ھمارا مطالبہ ھے ادویات پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی فل فور بند کی جائے بصورت دیگر پاکستان بھر میں احتجاج ھو گا اور اس کے بعد ملکی سطح غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال ھو گی جس کی تمام تر ذمے داری حکومت پر ھو گی

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …