کوچ نے گلیڈی ایٹرزکے ناقص کھیل کی وجہ بتا دی

انجریز،اسٹار پلیئرز کی عدم دستیابی اور غیر ذمہ داری، معین خان نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ناقص کھیل کی وجہ بتا دی۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹwww.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے سابق قومی کپتان معین خان نے کہاکہ اچھی اور بْری فارم تو ساتھ ساتھ چلتی ہے مگر پی ایس ایل 6میں ٹیم کو درست کمبی نیشن تشکیل دینے کا مسئلہ رہا، کراچی میں پہلے مرحلے کے آخری میچ میں ردھم نظر آیا تھا، بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں جیت رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ہدف کا دفاع کر کے روایت توڑی، بعد ازاں کرس گیل اور قیس احمد دستیاب نہیں رہے،قرنطینہ مسائل کی وجہ سے بین کٹنگ نے بھی انکار کردیا، متبادل کھلاڑی بھی 2،2 میچز کے لیے ملے،آندرے رسل اور فاف ڈو پلیسی انجرڈ ہوگئے، قیس احمد کی کمی تو بہت زیادہ محسوس ہوئی، اس صورتحال میں کمبی نیشن بنانا کوچ اور کپتان دونوں کے لیے مشکل تھا۔

معین خان نے کہا کہ میں کوئی جواز نہیں پیش کر رہا مگر کسی ٹیم کے ساتھ بھی ایسا ہوتا تو کارکردگی متاثر ہوتی، جنھیں مواقع ملے وہ بھی پرفارم نہیں کر سکے،کسی ایک کی کارکردگی میں بھی تسلسل نہیں تھا،صرف جیک ویدرآلڈ نے متاثر کیا جب کہ کیمرون ڈیلپورٹ بڑی اننگز نہیں کھیل پائے۔

انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل نوجوانوں کے لیے خود کو قومی ٹیم میں شمولیت کا اہل ثابت کرنے کا سنہری موقع ہوتا ہے مگر وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکے،یہ مکمل طور پر فلاپ پرفارمنس تھی، اس میں بطور کوچ میری کوتاہی بھی ہوگی لیکن میدان میں ہر کھلاڑی کو انفرادی طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کارکردگی دکھانا ہوتی ہے،اعلی سطح کی کرکٹ میں دباؤ برداشت کرتے ہوئے پرفارم کرنا ہوتا ہے، آپ کو پیسہ ملتا ہے تو کارکردگی دکھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ہر میچ سے پہلے بتایا کہ اب کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کر سکتے مگر شاید وہ سہل پسندی سے کام لے گئے، عثمان خان ایک اننگز کے بعد خوف کا شکار نظر آئے، صائم ایوب کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل پائے، اعظم خان اور سرفراز نے بھی تسلسل کے ساتھ رنز نہیں کیے،کوشش ضرور کی مگر دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کی وجہ سے کپتان بھی غیر معمولی اننگز نہیں کھیل سکے،ماضی میں شین واٹسن جیسے پلیئر چیلنج قبول کرتے تھے، اس بار کسی نے دباؤ برداشت نہیں کیا، بولرز نے بھی حریف ٹیموں کو بڑے اسکور بنانے کا موقع دیا، بعد میں بولنگ کرتے ہوئے ہدف کا دفاع کرنے میں بھی ناکام رہے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بہتری لانے کی کوشش کریں گے، غور کیا جائے گا کہ سلیکشن اور پرفارمنس میں کہاں غلطیاں ہوئیں، بہرحال یہ ضرور کہوں گا کہ پلیئرز میں جذبے کی کمی نہ ہوتی تو نتائج مختلف ہوتے۔

رضوان کی طرح سرفراز احمدکو بھی ٹاپ آرڈر میں کھیلنا چاہیے

معین خان نے کہا کہ پی ایس ایل میں سرفراز احمد بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکے،محمد رضوان کی طرح سرفراز احمد کو بھی ٹاپ آرڈر میں کھیلنا چاہیے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان کی صلاحیتوں اور مہارت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں مگر دوسرے اینڈ سے انھیں کوئی سپورٹ ہی نہیں ملی، محمد رضوان کی طرح ان کا بھی ٹاپ آرڈر میں کھیلنا بہتر ہوگا، اوپنر کے طور پر بیٹنگ کریں تو مڈل آرڈر میں ایک اضافی بیٹسمین کے لیے جگہ بن سکتی ہے،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ٹاپ 4 پرفارم نہیں کر سکے، کسی کو چیلنج لینا پڑے گا۔

نوجوانوں کی کارکردگی میں عدم تسلسل ملکی کرکٹ کیلیے نقصان دہ قرار

معین خان نے بیٹے اعظم خان سمیت نوجوان کرکٹرز کی کارکردگی میں عدم تسلسل کو پاکستان کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا، سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان یا کسی بھی سطح پر کھیلیں دباؤ تو ضرور ہوگا، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آپ اس صورتحال سے کیسے نکلتے ہیں، اعظم خان میں ٹیلنٹ ہے، سب جانتے ہیں کہ کریز پر ہو تو میچ کا پانسہ پلٹ دیتا ہے مگر اس کو ابھی سیکھنے کی ضرورت ہے، قومی ٹیم میں آنا آسان مگر برقرار رہنا مشکل ہے۔

ہمارے دور میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نہیں تھی، اب کھلاڑیوں کو جلد قومی ٹیموں میں آنے کا موقع مل جاتا ہے لیکن اگر کوئی محنت نہیں کرے گا تو اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ پائے گا، کرکٹ بہت تیز ہوگئی، پریشر برداشت کرکے پرفارم کرنے سے ہی معمولی اور غیر معمولی پلیئر کا فرق سامنے آتا ہے۔

محمد حسنین کی کارکردگی کا گراف نیچے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کھلاڑی مشکل صورتحال میں بہتر پرفارم کرنے کا ہنر نہیں سیکھ رہے اگر اسی طرح کے رویے کا مظاہرہ کرتے رہے تو میرا نہیں خیال کہ پاکستان ٹیم میں بھی پرفارم کرسکیں گے۔حیدر علی کی بیٹنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہے۔

نوجوان بیٹسمین کی تکنیک تبدیل ہوئی ہے، شاٹ کھیلتے ہوئے گھوم جاتے ہیں،اگر اننگز کا آغاز کر رہے ہیں تو کریز پر تھوڑا وقت تو گزارنا چاہیے، ان کے پاس اتنے اسٹروکس ہیں کہ کسی وقت بھی رن ریٹ بہتر کر سکتے ہیں تو ابتدا میں جلد بازی کرنے کی ضرورت کیا ہے،یہی بات اعظم خان کو بھی سیکھنی چاہیے کہ کریز پر کھڑے رہیں گے تو کسی وقت بھی میچ کا نقشہ تبدیل کر سکتے ہیں، حیدر علی، اعظم خان ہوں یا محمد حسنین سب کو مستقل مزاجی دکھانا پڑے گی۔

بابرکااسٹرائیک ریٹ بہترین ہے

معین خان نے بابر اعظم کے اسٹرائیک ریٹ کو بہترین قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کردی، سابق کپتان نے کہا کہ بعض لوگ بابر کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں افادیت کے بارے میں بات کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کی بیٹنگ کے انداز میں کوئی خرابی نہیں،ہر ٹیم کو کسی ایسے بیٹسمین کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک اینڈ سنبھال کررکھے، اگر دوسری جانب سے کوئی اسکور نہ کرے تو اس میں بابر اعظم کا کوئی قصور نہیں،دیکھا جائے تو ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی بہترین ہے،ہر کوئی انفرادی طور پر اپنے کردارکو نبھائے تو ٹیمیں بنتی ہیں۔

سب کو سوچنا چاہیے آج اوپر ہیں توکل نیچے بھی آئیں گے

معین خان نے کہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی نے اوور کے دوران نہیں مکمل کرنے کے بعد نازیبا جملے کہے، باؤنسر بولر کا حق ہے،گیند سرفراز احمد کو زیادہ زور سے نہیں لگی تھی، شاہین شاہ آفریدی اوور کرنے کے بعد فیلڈنگ کرتے ہوئے نازیبا باتیں کر رہے تھے جو سرفرازکو اچھی نہیں لگیں اور انھوں نے امپائر سے شکایت کردی،فاسٹ بولر کا مزاج جارحانہ اور وہ بیٹسمینوں کو گھورتے بھی ہیں لیکن یہ واقعہ بعد میں ہوا، سابق کپتان اور سینئر کھلاڑی کے ساتھ جونیئرز کا رویہ مثبت ہونا چاہیے، معذرت کرنے سے آپ کی عزت میں ہی اضافہ ہوتا ہے، سب کو سوچنا چاہیے کہ آج آپ اوپر ہیں توکل نیچے بھی آنا ہے، یہی روایت پڑ گئی تو کل جب سینئر ہوں گے تو بچے آپ کے ساتھ بھی بدتمیزی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …