اسامہ ستی قتل کیس میں بڑی پیشرفت

اسلام آباد (میڈیا92لائن )سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے اسامہ سی کیس کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر کو مقتول کے والد کی درخواست پر تبدیل کر دیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسامہ ستی قتل کیس کے استغاثہ نے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کو کیس کے تفتیشی افسر کی تبدیلی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے زیر حراست 5 سابق پولیس عہدیداروں کا مزید جسمانی ریمانڈ طلب کرلیا ہے ۔ اے ٹی سی جج راجا جواد عباس حسن نے سوال کیا کہ 22 دن کے جسمانی ریمانڈ میں تحقیقات کیوں نہیں مکمل ہوسکیں۔استغاثہ نے چار روز کے ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کی اور ہدایت کی کہ اس مدت کے اندر تحقیقات ختم کریں۔
استغاثہ نے ملزم مدثر اقبال، شکیل احمد، محمد مصطفٰی، سعید احمد اور افتخار احمد کو عدالت میں پیش کیا۔وکیل راجہ فیصل یونس نے عدالت کو بتایا کہ اسامہ ستی کے والد کی درخواست پر تفتیشی افسر کو تبدیل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے ایک عینی شاہد نے بھی رضاکارانہ طور پر اس معاملے میں بیان قلمبند کرنے کا مطالبہ کیا ہے لہذا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو تفتیش کے اختتام کے لیے مزید وقت دیا جاسکتا ہے۔
عدالت کی کارروائی کے دوران اسامہ ستی کے اہلخانہ نے فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس (ایف جے سی) کے باہر پرامن احتجاج کیا۔واضح رہے کہ 3 جنوری کو اسلام آباد پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 5 اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان اسامہ ستی کو جاں بحق کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

الیکشن ٹھیک ہواتو نتیجہ جاری ہوگا، چیف الیکشن کمشنرنے ری پولنگ کا عندیہ بھی دے دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)الیکشن کمیشن میں این اے 75 سے متعلق کیس میں چیف الیکشن کمشنر …