یہ انوکھی مچھلی اپنے پالتو جانور رکھتی ہے

(میڈیا92نیوز) انسان ہزاروں سال سے جانوروں کو پال کر اپنے کام کرتا آرہا ہےلیکن سمندر میں پہلی مرتبہ کسی جانور کی جانب سے دوسرے جانور کو پال کر اپنا کام نکلوانے کا ثبوت ملا ہے۔

یہ ایک طرح کی مچھلی ہے جس کا نام فارمر فش ہے۔ آسٹریلوی ماہرین نے کہا ہے کہ یہ چھوٹے شرمپ کو بھرتی کرکے ان سے الجی کے ذخائر بنواتی ہے۔اس سے قبل بعض اقسام کی چیونٹیاں ایک قسم کے ایفڈ کیڑے کو پالتی ہیں جنہیں ’تلے‘ بھی کہا جاتا ہے۔ چیونٹیاں کیڑوں کو شیرہ پلاتی ہیں اور اس کے بدلے وہ چیونٹٰیوں کو حملہ آور جانوروں سے بچاتی ہیں اور یہ عمل حیاتیات کی زبان میں ہم زیستگی (سمبایوسِس) بھی کہلاتا ہے۔

اب گرفتھ اور ڈیکن یونیورسٹیوں کے ماہرین نے بیلز کے مقام پر مرجانی چٹانوں میں ایک مچھلی دیکھی ہے جس کا پورا نام لانگ فِن ڈیمسیلفش ہے اور وہ مائسڈ نامی شرمپ کو پال کر ان سے کام کرواتی رہتی ہیں۔ یہ مچھلیاں اپنی غذا کے لیے الجی کا ڈھیر بناتی ہیں۔ یہاں شرمپ کا فضلہ فصل کی افزائش بڑھاتا ہے۔ اس کے بدلے شرمپ کو رہنے کی محفوظ جگہ ملتی ہے۔ جب کوئی شرمپ کو کھانے آتا ہے تو مچھلی اس جانور کے پیچھے لگ جاتی ہے اور اسے بھگا کر دم لیتی ہے۔
تصدیق کے لیے سائنسدانوں نے تجربہ گاہ اور خود سمندر میں تحقیقات کی ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ڈیم سیلفش کی بو شرمپ کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ اس دوران وہ اپنے شکاری کی بو کو فراموش کردیتے ہیں ۔ اب اگر کوئی ان شرمپ کو کھانے آتا ہے تو فارمر مچھلی انہیں بھگادیتی ہے۔

دوسری جانب شرمپ الجی کے معیار اور پیداوار کو بڑھاتی ہے اور اس سے مچھلی کی صحت بہتر رہتی ہے۔ ماہرین نے دیکھا کہ الجی کے پاس سے شرمپ ہٹادیئے گئے تو اس سے خود الجی کا معیار بھی گرگیا۔ اس طرح یہ بات طے ہوگئی کہ مچھلیاں شرمپ کو پالتی ہیں اور اس کے بدلے بہتر الجی حاصل کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیاز بیگ میں ریونیو ریکارڈ کے برعکس رپورٹس مرتب کرنے کا انکشاف

لاہور (میڈیا 92 نیوز آن لائن) نیاز بیگ میں ریونیو ریکارڈ کے برعکس رپورٹس مرتب …