لاہور ہائیکورٹ نے شریف خاندان اور16ن لیگی رہنماﺅں کےخلاف توہین عدالت کی درخواستوں کو فل بنچ کے پاس بھجوادیا

لاہور(میڈیا92نیوز) لاہور ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف،مریم نوازسمیت16 ن لیگی رہنماوں کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں کو سماعت کے لئے فل بنچ کے پاس بھجوا دیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا تین رکنی فل بنچ دو ا اپریل سے کیس کی سماعت کرے گا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ ہانامہ کیس کے بعد میاں نواز شریف اور مریم نواز سمیت ن لیگی رہنماوں نے عدلیہ کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے اور وہ عدلیہ کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں ، ن لیگی رہنماوں کا عمل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے لہذا کارروائی کی جائے،انہوں نے استدعا کی کہ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر مقدمات کی سماعت کے لئے فل بنچ تشکیل دیا جائے،جس پر عدالت نےتمام درخواستیں اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کی سماعت کے لئے تشکیل دئیے گئے فل بنچ کے روبرو سماعت کے لئے بھجوادیں،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سفارش پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاور علی نے نوازشریف مریم نواز اور ن لیگی رہنماوں کی عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لئے تین رکنی فل بنچ تشکیل دے رکھا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ دو اپریل سے کیس کی سماعت کرے گا،،نو تشکیل شدہ فل بنچ میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل سنگل بنچ نے دوران سماعت توہین عدالت کیس پر لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی تھی،،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے سماعت کے لئے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے،.عدالت نے توہین آمیز بیانات نہ روکنے پر سیکرٹری پیمرا کو 29 مارچ کو ریکارڈ سمیت پہلے ہی طلب کررکھا ہے

یہ بھی پڑھیں

سارہ انعام قتل کیس میں شوہر شاہنواز کو سزائے موت کا حکم

اسلام آباد: کینیڈین شہری سارہ انعام قتل کیس میں ملزم شوہر شاہنواز امیر کو عدالت نے …