لاہور ہائیکورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پرسینٹ کے انتخابات کالعدم قرار دینے کےلئے دائر درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدائت

لاہور(میڈیا92نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پرسینٹ کے انتخابات کالعدم قرار دینے کے لئے دائر درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدائت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار تحریک انقلاب کے سربراہ رانا علم الدین غازی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ آئین کے منافی اور الیکشن کمیشن کی ناکامی ہے، سینٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے ملک کے سب سے بڑے ایوان کی ساکھ کو داو پر لگا دیا گیا،الیکشن کمیشن نے ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے اقدامات نہ کر کے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز سے پوری نہیں کیں،پولنگ کے دوران اراکین اسمبلی ووٹ دکھا کر کاسٹ کرتے رہے جو کہ آئین اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے، خفیہ رائے شماری نہ ہونا واضح طور پر دھاندلی اور آئین سے بغاوت ہے ،انہوں نے استدعا کی کہ ہارس ٹریڈنگ کی بناءپر سینٹ کی تمام نشستوں پر ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دے اور عدالتی فیصلہ آنے تک نو منتخب سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن معطل کرنے کا حکم دیا جائے،عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی
ہدائت کر دی۔

یہ بھی پڑھیں

سارہ انعام قتل کیس میں شوہر شاہنواز کو سزائے موت کا حکم

اسلام آباد: کینیڈین شہری سارہ انعام قتل کیس میں ملزم شوہر شاہنواز امیر کو عدالت نے …