قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات کے چیئرمین آصف محمود نے رہائشی علاقوں سے فیکٹریوں کو باہر منتقل کرنے کا حکم دیدیا

لاہور(میڈیا92نیوز رپورٹ) پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تحفظ ماحولیات نے لاہور کے رہائشی علاقوں میںواقع سینکڑوں فیکٹریوں کو انڈسٹریل ایریا میں من تق لل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں اورکہا ہے کہ ضلعی حکومت انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر ایک ہفتہ کے اندر فیکٹریاں منتقل کرنے کا پلان کمیٹی کو بتائے۔

قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات کا اجلاس چیئرمین آصف محمود کی سربراہی میں ہوا جس میں ممبران کمیٹی، محکمہ ماحولیات اور ضلعی حکومت کے افسران نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی کو محکمہ تحفظ ماحولیات کے افسران کی طرف سے بتایا گیا کہ شہر کے رہائشی علاقوں میں160کے قریب فیکٹریاں ٹائر اورکیمیکل جلاکر آلودگی پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں جس کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے محکمہ نے113فیکٹریوں کو سیل کردیا جن میں سے106فیکٹریوں نے آلودگی کو کنٹرول کرنے والے آلات لگالئے ہیں جبکہ باقی فیکٹریوں کےخلاف کیسز ٹربیونل میں ہیں۔اس موقع پر کمیٹی کو بتایا گیا وزیراعلیٰ پنجاب کے طرف سے سی ایم جاری ہوچکا ہے رہائشی علاقوں میں فیکٹریاں نہیں چل سکتیں جس پرچیئرمین کمیٹی نے کہا تو پھر کیا وجہ ہے ان فیکٹریوں کو اب تک شفٹ کیوں نہیں کیا گیا۔محکمہ ماحولیات کے افسر نے کہا یہ ہمارے محکمہ کے متعلقہ کام نہیں ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ سیکرٹری انڈسٹری کے ساتھ مل کر اگلی میٹنگ 18اپریل تک رہائشی علاقوں سے فیکٹریوں کو انڈسٹریل ایریا میں شفٹ کرنے کا پلان بناکر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

حمزہ شہباز کی رہائی عثمان بزدار کے لئے خطرہ ،ڈاکٹر طارق فضل نے اندر کی بات بتادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت ڈاکٹر طارق …