محکمہ ہائیر ایجوکیشن میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

لاہور(میڈیا92نیوز) محکمہ ہائیر ایجوکیشن میں بڑے درجے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے آڈٹ رپورٹ جمع کروائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر یونیورسٹیوں اور بورڈز کے ملازمین کو مختلف الاؤنسز اور دیگر ادئیگیاں کی گئیں جس سے قومی خزانے کو 44 کروڑ 94 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے جن تعلیمی اداروں میں خلاف ضابطہ ادائیگیاں کی گئیں ان میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سمیت بہاؤالدین یونیورسٹی، ملتان، یورنیورسٹی آف سرگودھا ، بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن، گوجرانوالہ، گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ ،اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن فیصل آباد شامل ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے رپورٹ پر اعتراضات لگا دیئے اور معاملہ ڈیپارٹمینٹل کمیٹی کے اجلاس میں بھی اٹھایا گیا تاہم محکمہ کی طرف سے دیے گئے جوابات کو قبول نہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

حمزہ شہباز کی رہائی عثمان بزدار کے لئے خطرہ ،ڈاکٹر طارق فضل نے اندر کی بات بتادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت ڈاکٹر طارق …