اتنے اہم عہدے کوحکومت کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے ،چیف جسٹس

لاہور(میڈیا92نیوز) ۔انہوں نے کہا کہ کیایہ حکومت کی مرضی ہے جب چاہے آئی جی نکال دے، پولیس سروس 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی ایشو بن گیاہے۔ فاروق نائیک18ترمیم کے بعد پولیس فئڈرل لیجسلیٹو لسٹ میں نہیں آتی ۔پولیس کاسربراہ اسی صوبے سے کیوں نہیں ہوسکتا،وکیل۔ یہ معاملہ صوبے اور وفاق کے درمیان ہے۔کیااس ملک میں شفاف تحقیقات کاکوئی مینڈیٹ نہیں ہے ۔پولیس ایکٹ میں آئی جی کوایس پی بنادیاگیاہے ،اس طرح صوبے کے آئی جی کو ایس پی کی طرح ٹرانسفر کادیاجائے گا۔ جسٹس عمر عطاگڈ گورنس کے لیے ضروری ہے ایک آئی جی آزاد ہو ،جسٹس عمر عطابندیال

یہ بھی پڑھیں

حمزہ شہباز کی رہائی عثمان بزدار کے لئے خطرہ ،ڈاکٹر طارق فضل نے اندر کی بات بتادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت ڈاکٹر طارق …