فرد کی فیس 1500جبکہ انتقال 5000پنجاب لینڈ اتھارٹی ریونیو بم گرا دیا

لاہور(اظہرمحمود/میڈیا92نیوز)وفاقی حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرایا تو پنجاب حکومت نے بھی ریونیو بم گرادیا۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے فرد کی فیس50روپے سے بڑھا کر1500اور انتقال زمین کی فیس500سے بڑھاکر5000کردی ہے۔ پنجاب حکومت نے ورلڈ بینک کے مالی وتکنیکی تعاون سے صوبے میں اراضی کا تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا منصوبہ2002 میں شروع کیا تھا تاکہ پٹواری کلچر کا خاتمہ ہوا اور محکمہ مال میں کرپشن کے ناسور کو ختم کیاجاسکے۔

2012ءمیں اس کو صوبہ بھر میں نافذ کرنے کےلئے144اراضی سنٹرز قائم کئے گئے۔ فروری2017ءمیں پنجاب لینڈ ریکارڈ ایکٹ پاس کیا گیا جس کے تحت پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اتھارٹی درخواست کنندہ سے فرد کے اجراءکےلئے50روپے جبکہ انتقال کے اندراج کےلئے500روپے فیس لیتی تھی لیکن اب پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے ایک حکم نامہ کے ذریعے فرد اور انتقال اراضی فیس میں اضافہ کردیا ہے۔اس اضافے کو ایکسپریس سروس کا نام دیا گیا ہے جس کی سہولت تمام اراضی سنٹرز پر قائم ایکسپرس کاﺅنٹرز پر دی جائےگی۔ ذرائع کے مطابق ان سنٹرز میں کرپشن کی شکایات بھی معمول بن گئی ہیں۔ اتھارٹی نے اپنے اخراجات پورے کرنے کےلئے فیس میں اضافہ کیا جبکہ ایکٹ کے تحت یہ اتھارٹی عوام کو سروس فراہم کرنے کےلئے بنائی گئی تھی لیکن اس نے لوٹنا شروع کردیا۔

اراضی سنٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ فرد کے حصول اور انتقال زمین کےلئے آنے والے ہرسائل کو کہا جارہاہے کہ وہ ایکسپریس سروس کی سہولت حاصل کرے کیونکہ اس سے اتھارٹی کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ عام ریٹس پر فرد کا اجرا اور انتقال زمین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ ایک اراضی سنٹر پر روزانہ سو سے زائد سائل اس کام کےلئے آتے ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ فیس میں اضافے کا مطلب ہے کہ اتھارٹی ایکٹ میں درج سروس فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی اور اب مختلف طریقوں سے عوام کو لوٹ رہی ہے۔ اس طرح ایک حکم نامے کے ذریعے فیس میں اضافہ کرنا غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

حمزہ شہباز کی رہائی عثمان بزدار کے لئے خطرہ ،ڈاکٹر طارق فضل نے اندر کی بات بتادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت ڈاکٹر طارق …