محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ایکشن:ناکارہ گاڑیوں کے سڑک پر استعمال ،رجسٹریشن بکس کی فروخت کی روک تھام

لاہور(رپورٹ ظہیر الحق /میڈیا92نیوز) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ناکارہ گاڑیوں کے سڑک پر استعمال اور ان کی رجسٹریشن بکس کی فروخت کی روک تھام کےلئے”ڈی رجسٹریشن“ کا نیانظام پنجاب میں لاگو کرنے کےلئے قانونی ترمیم تیار کرلی ہے، ایکسائز رجسٹریشن کی تاریخ سے آئندہ5برس بعد کمرشل جبکہ10برس بعد نان کمرشل(پرائیویٹ) موٹروہیکلز کی دوبارہ رجسٹریشن کروانا لازم ہوگا اور ڈی رجسٹریشن کے وقت فٹنس سرٹیفکیٹ بھی فراہم کرنا ہوگا جبکہ یہ مجوزہ قانون منظوری ملنے کی صورت میں ماضی میں رجسٹرڈ قانون تمام موٹروہیکلز پر بھی لاگو ہوگا۔ ایکسائز ڈیٹاکے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں 1947ءسے لے کردسمبر2017ءتک رجسٹرڈ وہیکلز کی کل تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زائد پے جس میں سے 85لاکھ سے زائد وہیکلز صرف لاہور میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ ایکسائز ریکارڈ کے مطابق1947ءسے 1960ءتک پنجاب بھر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی کل تعداد محض254تھی اور 1965ءکے بعد یہ تعداد طوفانی رفتار سے بڑھتی چلی گئی۔ محتاط تخمینہ کے مطابق پنجاب بھر میں35لاکھ سے زائد موٹروہیکلز ناکارہ اورناقابل استعمال ہوکر آف روڈ ہوچکی ہیںؒ لیکن ان کے مالکان نے ایکسائز قانون کے مطابق رجسٹریشن بکس محکمہ ایکسائز کوسرنڈر نہیں کی اور ان میں سے لاکھوں کتابیں مارکیٹ میں فروخت ہوئیں جن کے ذریعے انہی چیسز اور انجن نمبرز پر نئے باڈی فریم اور چیسز بناکرگاڑیاں سڑکوں پر چلتے ہوئے ”بم “ کی مانند رواں دواں ہیں۔تفصیلات کے مطابق سیکرٹری ایکسائز ڈاکٹر احمد بلال اور ڈی جی اکرم اشرف گوندل نے محکمہ کے ڈائریکٹرز اور ای ٹی اوز سے مشاورت کے بعد پنجاب موٹروہیکلز ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت پنجاب محکمہ ایکسائز میں رجسٹر ہر کمرشل گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ سے 5برس اور پرائیویٹ وہیکلز کی10برس کی مدت مکمل ہونے کے بعد ان کے مالکان کےلئے اپنی گاڑیوں کی ڈی رجسٹریشن کروانا لازم ہوگا تاکہ ایکسائز ڈیٹا میں اپ ڈیٹ کیا جاسکے کہ یہ گاڑیاں سڑک پر استعمال کے قابل حالت میں موجود ہیں۔ اس معاملے میں مالکان کو محکمہ ٹرانسپورٹ کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی ایکسائز کوفراہم کرنا ہوگا۔میڈیا92نیوزکے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب اکرم اشرف گوندل نے کہا کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ محکمہ ایکسائز پنجاب نے ”ڈی رجسٹریشن “ کا قانون متعارف کروانے کی قانونی تجویز تیار کی ہے جس سے نہ صرف مستقبل کی پالیسی سازی کےلئے اپ ٹو ڈیٹ ریکارڈ کی دستیابی یقینی ہوگی بلکہ ناکارہ گاڑیوں کی کتابوں پر غیر قانونی طریقے سے مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کا بھی خاتمہ ہوگا جوکہ اس وقت سڑکوں پرحادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

حمزہ شہباز کی رہائی عثمان بزدار کے لئے خطرہ ،ڈاکٹر طارق فضل نے اندر کی بات بتادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت ڈاکٹر طارق …