سوا لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لے لی

(میڈیا پاکستان )پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ میانمار سے بنگلہ دیش جانے والے روہنگیاؤں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گذشتہ دو ہفتوں میں سوا لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔یو این ایچ سی آر نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 35000 مزید پناہ گزینوں نے بنگلہ دیش کی سرحد عبور کی ہے جو کہ ایک دن میں نقل مکانی کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔بنگلہ دیش کی سرحدوں کی حفاظت پر معمور پولیس اہلکار روہنگیا مسلمانوں کو دریائے ناف عبور کر کے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں حالانکہ کہ سرکاری طور پر حکومتی نے اس پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی برائے میانمار یانگ ہی لی نے ملک میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے ملک کی رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ رخائن میں ‘حالات نہایت خراب’ ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ آنگ سان سوچی اس معاملے کے حل کے لیے ‘قدم اٹھائیں’۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بار رخائن میں ہونے والی تباہی اکتوبر کے واقعات سے ‘کہیں زیادہ بڑی ہے’۔رخائن میں حالیہ پرتشدد واقعات اور ان کے نتیجے میں روہنگیاؤں کی نقل مکانی کا سلسلہ 25 اگست کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومتی دعووؤں کے مطابق ’روہنگیا شدت پسندوں‘ نے 30 کے قریب پولیس تھانوں اور فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں میں سے بہت سے کئی روز کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ملک بدر ہونے والے کئی روہنگیا مسلمانوں نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والوں میں میانمار کی فوج کے علاوہ رخائن میں بدھ مت کے پیرو کار تھے جنھوں نے ان کے دیہات کو نذر آتش کیا اور شہریوں پر حملہ کیا۔میانمار کی حکومت کے مطابق ملک کی فوج روہنگیا شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے جو شہریوں پر حملے کرنے میں ملوث ہیں۔آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق کرنا کافی دشوار ہے کیونکہ حکومت نے اس علاقے تک صحافیوں کو رسائی نہیں دی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …