پاکستانی برمنگھم میں بھی محفوظ نہیں

برمنگھم(میڈیا92نیوز )اسٹریٹس جرائم اور ہیٹ کرائم میں بڑھتا ہوا اضافہ انتہائی تشویشناک ہے برمنگھم جیسے پرامن اور ملٹی کلچر معاشرے میں بھی اب کوئی محفوظ نہیں سولی ہل کے علاوہ شیرلی کے رہائشی فیصل پر رات کی تاریکی میں تین نقاب پوشوں نے حملہ کردیا۔ ڈنڈوں، لاتوں، مکوں کی بارش کردی۔ فیصل کا دایاں بازوں ٹوٹ گیا، سر پر شدیدچوٹیں آئیں اور چھے ٹانکے لگے جبکہ چہرے پر گہرا زخم آیا، چار روز بعد ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا، پولیس نے ابتدائی رپورٹ درج کرلی، مزید تحقیقات شروع، فیصل اپنے ہی گھر میں انتہائی خوفزدہ ہے، بیوی بچے بھی دہشت زدہ ہیں تفصیلات کے مطابق پاکستانی نژاد برٹش شہری فیصل پیر کو 12:00 بجے رات کام ختم کرکے جب گھر پہنچا اور اپنی گاڑی دروازے کیساتھ ڈرائیور وے پر کھڑی کرکے باہر نکلا تو پہلے سے گھات لگائے تین سفید فام نقاب پوش اچانک حملہ آور ہوگئے اور لاتوں، مکوں کی بارش کردی اور شوٹ ہم ، ہل ہم جیسے جملے دہراتے رہے ،فیصل مدد مدد کیلئے پکارتا رہا اس کی مدد کی اپیل صدابے صحرا ثابت ہوئی۔ 12

سالہ بیٹے نے شور سن کر اندر لائٹ آن کی تو بھی نقاب پوش فیصل سے گاڑی کی چابی لیکر ڈش کیمرہ چیک کرتے رہے تاکہ کوئی ثبوت نہ مل سکے بعد میں فون، رقم گاڑی سب کچھ چھوڑ کر اطمینان سے فرار ہوگئے۔ پولیس اور ایمبولینس کچھ ہی دیر بعد موقع پر پہنچ گئے جہاں گاڑی گھر کے دروازے کے ہینڈل اور دیگر جگہوں پر خون کے دھبے لگے تھے۔ بچے ، بیوی سخت خوف ذدہ تھے۔ فیصل نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے آنسوئوں کے ساتھ بتایا کہ انگلینڈ جیسے پرامن ملک میں گھر کی دہلیز پر اسے جان سے ماردینے کے لئے حملہ کیا گیا۔ فیصل نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے ابتدائی رپورٹ درج کی گئی لیکن آج پانچواں روز گزر گیا کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔ خون کے دھبے ، فنگر پرنٹس اور دیگر شواہدمٹ گئے ہیں اور کچھ چند روز بعد مٹ جائیں گے اور نقاب پوشوں کی گرفتاری عمل میں نہ آسکے گی میں انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھے انصاف فراہم کیاجائے۔ کمیونٹی اپنے اتحاد سے چند شرپسند عناصر کو یوں سر عام وارداتیں کرنے سے روکے۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …