تھریسامے نے عبادت گاہوں کی سیکورٹی کا بیڑا اُٹھا لیا

برمنگھم (میڈیا92نیوز) برطانیہ بھر میں عبادتگاہوں کی سیکورٹی میں بہتری لانے کے لئے ہوم آفس کی جانب سے اضافی ایک ملین پونڈ فنڈنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ فنڈنگ کا مقصد ایسی عبادت گاہیں جو مذہبی منافرت پر مبنی حملوں کا شکار یا ممکنہ طور پر اس خدشہ سے دوچار ہیں کی سیکورٹی کو بہتر بنانا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ فنڈنگ صرف انگلینڈ اور ویلز کی عبادتگاہوں کو فراہم کی جائے گی، یہ اضافی فنڈنگ مساجد، چرچوں، گردواروں اور مندروں کی سیکورٹی بہتر بنانے پر خرچ کی جائیگی۔ درخواست کی کامیابی کی صورت میں متعلقہ عبادت گاہ کو 56ہزار پونڈ تک اضافی فنڈز دیئے جائیں گے تاکہ وہ یہ رقم منافرت کے جرائم کے خطرہ سے بچاؤ اور اپنی سیکورٹی کو بہتر بنانے پر خرچ سکیں۔ وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا تھا کہ برطانیہ کثیر المذاہب ملک اور جیسا کہ میں نے گذشتہ برس فنزبری پارک مسجد پر کے بعد کہا تھا کہ کسی ایک کمیونٹی پر حملہ ہم سب پر حملہ تصور کیا جائیگا۔ ان کا مزید کہنا تھا مختلف مذاہب کو عبادت کی

آزادی، احترام اور برداشت ہماری بنیادی اقدار ہیں اور میں نے انتہا پسندی اور نفرت پر مبنی جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کر رکھا ہے۔ عبادت گاہوں میں حفاظتی اقدامات کا مقصد وہاں ہونے والے اجتماع میں شامل افراد کے ذہنی سکون کو یقینی بنانا ہے تاہم اگر کوئی گروپ یا فرد نفرت ابھارنے یا مذہب کی بنیاد پر مجرمانہ سرگرمیوں میں پایا گیا تو اس کی بیخ کنی کے لئے قانون کی پوری طاقت عمل میں لائی جائیگی۔عبادتگاہوں کے تحفظ کی فنڈنگ کی سکیم کا اجراء 2016 میں کیا گیا تھا اور اس ضمن میں کُل 2.4 ملین پونڈزکے فنڈز مختص کئے گئے تھے۔ جو اب تک نواسی مساجد، چرچوں، مندروں اور گردواروں کی سیکورٹی بہتر بنانے پر خرچ کی گئی ہے۔ فنڈنگ ان عبادتگاہوں میں الارم سسٹم، سی سی ٹی وی اور سیکورٹی لائٹس کی تنصیب اور بہتری لانے پر خرچ کی گئی جبکہ سائنا گوگز کے تحفظ کے لئے کمیونٹی سیکورٹی ٹرسٹ کے زیر انتظام ایک علیحدہ سکیم نافذ العمل ہے۔وزیر برائے انسداد دہشت گری بیرونس ویلیمز کا کہنا تھا کہ کمیونیٹیز تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے خطرہ سے آزاد ہو کر اپنے مذہب کے مطابق عبادت کر سکیں یہ ہمارے ملک کی مشترکہ اقدار کے بنیادی سنہری اصول ہیں۔ اس سکیم کے ذریعہ بہت سی عبادتگاہوں کی سیکورٹی بہتر بنائی جا چکی ہے اور ایسی عبادتگاہیں جنھیں نفرت کا نشانہ بنناپڑا یا وہ اس خطرہ سےدوچار ہیں انہیں اس فنڈنگ کے لئے ضرور درخواست دینی چاہئے۔ یہ سکیم حکومت کے اس ہیٹ کرائم ایکشن پلان کا بنیادی عزم ہے جس کا مقصد ہوم آفس، ہاوسنگ منسٹری، کمیونیٹیز اور لوکل گورنمنٹ اور دیگر حکومتی ادارے مشترکہ کوششوں کے ذریعہ منافرت پر مبنی جرائم ، اس کا نشانہ بننے والے افراد کو مدد اور ملوث مجرمان کو سزا دلوانا ہے۔ اس کے علاوہ تمام کمیونٹیزکے ساتھ ملکر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام کو اس بات کا علم ہو کہ کسی بھی نفرت انگیز واقعہ کی رپورٹ کس طریقہ سے درج کرائی جائے، اس ضمن میں کیسے معاونت حاصل جائے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ہیٹ کرائم کو رپورٹ کروایا جائے اور پوکیس بھی ایسے واقعات کا اندراج متاثرین کے مذہب کی مناسبت سے کیا جائے۔ رواں برس فنڈنگ کی درخواست دینے کے عمل کو مزید سہل بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار عبادت گاہ کو اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہو گا کہ گزشتہ دو برسوں میں انھیں مذہبی منافرت کا نشانہ بنایاگیا ہے یا پھر وہ اس خدشہ سے دوچار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …