کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری، کشمیری نوجوان شہید، کشمیر میں ہڑتال


سری نگر (میڈیا92نیوز) مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ایک اور نوجوان سفیل احمد بٹ سرینگر کے اسپتال میں دوران علاج شہید ہوگیا، جس کے بعد گزشتہ تین روز میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 11ہوگئی،کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شوپیان کے علاقے داچھو سے تعلق رکھنے والا17 سالہ سفیل احمد اتوار کو ضلع کے علاقے بادی گام میں احتجاجی مظاہرین پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا،نوجوان کے پیٹ میں گولی لگی تھی،دوسری جانب بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نوجوانون کے قتل کے خلاف حریت رہنمائوں کی اپیل پر مسلسل تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی، تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی،وادی کشمیر میں مسلسل تیسرے دن آج موبائل فون سروس معطل ہے اور جنوبی کشمیر کے قصبے بارہمولہ اور جموں کے قصبے بانیہال کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل ہے، کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے سے روکنے کیلئے

سرینگر اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوںمیں مسلسل پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں، یونیورسٹیاں،کالجز اور سکولوں سمیت تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ منگل کو ہونیوالے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں، قابض انتظامیہ نے حریت رہنمائوں سیدعلی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی اور محمد یاسین ملک کو گھروں یاتھانوں میں مسلسل نظربند رکھا، مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کے رہنما اور حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے کہا ہے کہ قابض حکمرانوں نے ظلم وبربریت کی تمام حدیں پار کرلی ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے، میرواعظ عمرفاروق نے سرینگر میں بھارتی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو کہیں سے انصاف نہیں مل رہا اور بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھاہے،انہوں نے کہاکہ شوپیاںمیں بے گناہ اور نہتے شہریوںکو نشانہ بنایا گیا اور ہسپتالوں میں جاکر اس سنگین صورتحال کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، لوگوں کے سر وں، سینوں اور آنکھوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …