بھارتی سپریم کورٹ کا بالغ جوڑوں کو شرمناک حکم


نئی دہلی( فارن ڈیسک/میڈیا92نیوز) بھارتی سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ بالغ جوڑے کو ساتھ رہنے کے لیے شادی کی ضرورت نہیں ہے ۔ بھارت کی اعلیٰ عدالت میں نندکمار نامی نوجوان نے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کررکھی تھی جس میں ہائی کورٹ نے ان کی شادی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لڑکی کو والد کے حوالے کردیا تھا اور فیصلے میں کہا تھا کہ چونکہ شادی کے وقت لڑکے کی عمر 21 سال سے کم تھی لہذا یہ شادی غیر قانونی ہے ۔بھارتی سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ دونوں فریقین ہندو ہیں اور ہندو قوانین کے تحت ان کی یہ شادی قانونی طور پر تو جائز نہیں البتہ یہ شادی کے بغیر بھی ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت رضامندی سے شادی کرنے والے بالغ جوڑے کی زندگی میں مداخلت نہیں کرسکتی اور نہ ہی ان کی شادی کو ختم کرسکتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …