ایران کے خلاف کارروائی کا سوچا جائے، خطے میں درپردہ جنگ کا نیٹ ورک وسیع کر رہا ہے: مشیر قومی سلامتی امریکہ میک ماسٹر

میونخ(فارن ڈیسک/میڈیا92نیوز)امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام، یمن اور عراق جیسے ملکوں میں درپردہ جنگ کا ایک طاقتور نیٹ ورک تشکیل دے رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق میونخ میں سالانہ سکیورٹی کانفرس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر ایچ آر میک ماسٹر کا کہنا تھا کہ خاص طور پر باعث تشویش امر یہ ہے کہ پراکسیز کا یہ نیٹ ورک مزید باصلاحیت ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ایران اس کی زیادہ سے زیادہ آبیاری کر رہا ہے۔ان نیٹ ورکس کو تباہ کن ہتھیار فراہم دے رہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اب وقت ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کا سوچا جائے۔ایران پر مغرب کی طرف سے پہلے بھی مشرق وسطی کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں لیکن تہران انھیں یکسر مسترد کرتا ہے۔میک ماسٹر کا مزید کہنا تھا کہ تردید کے باوجود رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کیمیائی ہتھیار کر رہے ہیں اور ان کے بقول بین الاقوامی برادری شام کی حکومت کا احتساب کرے۔”لوگوں سے ملنے والی معلومات اور تصاویر واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ اسد کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری ہے۔دمشق ان دعوں کی تردید کرتے ہوئے اس کا الزام باغی فورسز پر عائد کرتا آیا ہے۔امریکی مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ یہ سال اقوام اور انسانیت کے لیے بہت حساس ہے۔انھوں نے کہا دنیا کو بہت سے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے جو ان کے بقول ان غیر ذمہ دار ریاستوں کی طرف سے بھی لاحق ہیں جو مشرق وسطی اور شمال مشرقی ایشیا میں پہلے ہی بین الاقوامی امن کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہیں۔انھوں نے خاص طور پر شمالی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے ان ممالک پر زور دیا جو پیانگ یانگ کی "بدستور اقتصادی معاونت” کر رہے ہیں کہ وہ بین الاقوامی تعزیرات کا احترام کریں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں انتخابات میں مداخلت پر تشویش ہے تحقیقات کی جائیں، امریکا

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد اور لاکھوں شہریوں کی جانب …