نیند کی کمی کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

یہ انتباہ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو
اگر چھ گھنٹے سے کم نیند کو معمول بنالیا جائے تو یہ دماغ کے لیے اسی طرح تباہ کن عادت ثابت ہوتی ہے جیسے شراب نوشی۔
یہ انتباہ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
ویسے تو نیند کی کمی موٹاپے، ڈپریشن، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا بھی بڑھاتی ہے مگر اب یہ بات سامےن آئی ہے کہ یہ دماغ پر بھی نقصان دہ اثرات مرتب کرنے والی عادت ہے۔
ڈیجیٹل ہیلتھ کمپنی Medisys کی تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کیکمی توقعات سے بھی زیادہ دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اٹھارہ یا اس سے زائد گھنٹوں تک جاگتے رہنا دماغی صلاحیتوں پر اسی طرح اثرانداز ہوتا ہے جیسا شراب کے نشے میں دھت ہونے سے ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کبھی کبھار تو چھ گھنٹے یا اس سے کم نیند کوئی خاص اثر صحت پر مرتب نہیں کرتی تاہم اسے عادت بنالینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق نیند ہارمونز کو ریگولیٹ کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس کی کمی کھانے کی خواہش کو بڑھا کر موٹاپے کا باعث بن جاتی ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ زیادہ گھنٹے تک بیدار رہنے سے دماغ غیر مستحکم ہوتا ہے اور اس کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جریدے ڈیجیٹل جرنل میں شائع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وبا؛ مزید 67 افراد جاں بحق، مثبت کیسز کی شرح 6 فیصد سے زائد

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس سے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 67 افراد …