اومیگا تھری کی کمی قبل از موت کی وجہ بن سکتی ہے

نیویارک:
اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی تکرار اس وقت بہت سننے میں آرہی ہیں اور اب خبر یہ ہے کہ جسم میں اس اہم عنصر کی کمی ہوبہو تمباکو نوشی جیسی ہی بری ہے جو قبل ازوقت موت کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

اس ضمن میں نئی تحقیقی امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اومیگا تھری انڈیکس کا اتار چڑھاؤ خون کے ٹیسٹ سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں دنیا کے سب سے اہم اور غیرمعمولی مطالعے ’فریمنگم ہارٹ اسٹڈی‘ سے سامنے آیا ہے۔ یہ اسٹڈی ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ جس میں دل کے امراض کے خطرات کو نوٹ کرتے ہوئے خطرے کا اسکوربورڈ بنایا گیا ہے۔ اس میں آٹھ معیارات شامل ہیں جن میں عمر، جنس، تمباکونوشی، بلڈپریشر، ذیابیطس، سسٹالک بلڈ پریشر اور ٹوٹل کولیسٹرل (ٹی سی) اور ایچ ڈی ایل کولیسٹرول شامل ہیں۔

اس مطالعے کی اہمیت یوں ہے کہ امراضِ قلب اب بھی دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس کی وجہ آرام طلبی، تمباکو نوشی، ذہنی تناؤ اور بے آرام زندگی جیسے عوامل ہیں۔

فیٹی ایسڈز کو خون کے پلازما اور سرخ خلیات کی جھلی (آربی سی) پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سامن مچھلی میں بہتات سے پائے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ اومیگا تھری کے سپلیمنٹ عام ملتے ہیں جو مچھلی کے تیل اور الجی کے تیلوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

پہلے مطالعے میں 2500 شرکا کو لیا گیا جن کی عمریں 66 سے 73 برس تھی اور سات سال تین ماہ تک ان کا جائزہ لیا گیا تھا۔’فریمنگم ہارٹ اسٹڈی‘ میں اومیگا تھری انڈیکس میں سب سے زائد کمی 8 فیصد تک نوٹ کی گئی۔ امریکیوں میں یہ شرح چار فیصد کم تھی جو امراضِ قلب کی وجہ بن سکتی ہے۔

لیکن جاپانی عوام میں اومیگا تھری انڈیکس کی شرح بلند ہے اور وہاں لوگ طویل عمر پاتے ہیں ۔ اس طرح وہاں اوسط عمر امریکیوں کے مقابلے میں پانچ سال زائد ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اومیگا تھری طویل عمر کے لیے بہت مفید ہوسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اومیگا تھری کو اب دنیا بھر میں اہمیت دی جارہی ہے، کیونکہ یہ امراضِ قلب سے بچاتے ہوئے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …