جان کی امان پاﺅں تو

تحریر: عامر بٹ
ڈی جی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کیپٹن ظفر اقبال کی ہدایت پر صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں ایکسپریس کاﺅنٹر لگائے جارہے ہیں جن کا مقصد ان شہریوں کو بروقت اور ارجنٹ سروس مہیا کرنا ہے جولائن میں کھڑے نہیں ہوسکتے جو ٹوکن پریکٹس کو قبول نہیں کرتے اور جو تھوڑا سا بھی انتظار نہیں کرپاتے بزنس مین، سرمایہ دار، نمبردار، سیہ زادے، سیاست دان، بیوروکریٹس، احتسابی اداروں کے افسران میڈیا سے تعلق رکھنے والے سینئر جرنلسٹ سمیت ان گنت کیٹگری سے وابستہ افراد اراضی ریکارڈ سنٹرز میں دی جانے والی سروس اور پریکٹس سے نالاں نظر آرہے ہیں، لہذا اس پر تنقید برائے تنقید مناسب نہیں ہے اور ایکسپریس کاﺅنٹر کی اس سروس میں نہ تو کوئی بدنیتی ہے اور نہ ہی کوئی چالاکی ہے بلکہ خائص نیک نیتی اور عوامی مطالبے کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے جوکہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے مگر محترم سر چند ایسے سوالات ایسے قوانین اور ایسی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں جن کا ازالہ نہ کیا گیا تو یہ ساری محنت، پلاننگ اور اقدام ناصرف دھرنے کا دھرا رہ جائے گا بلکہ الٹا نیک نامی کی بجائے بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا تو میں اب سیدھا مدعا پر آتا ہوں وہ یہ ہے کہ پرچہ رجسٹری قانون کے مطابق رجسٹری کی پاسنگ کے دوران500روپے عوام سے قبل از وقت انتقال کی تصدیق شدہ کاپی کے وصول کیے جارہے ہیں تو رجسٹری کی پاسنگ کے بعد دوبارہ ارجنٹ سروس کی صورت میں 5000روپے کی وصولی ڈبل ڈبل فیس کے زمرے میں آئےگی یہ ایسے ہی ہے جیسے انسان اوور ٹائم یا سائیڈ بزنس سے لاکھوں کمائے اور اجاڑے اس کو دکھ نہیں ہوتا جتنا اس کو اپنی ماہانہ سیلری کی مد میں ملنے والی رقم میں کمی پیشی سے ہوتا ہے کیونکہ وہ پہلے والا500اس کو چھبن ضرور کرے گا۔اس طرح جومنشور آج بھی ہماری ویب سائیڈ اراضی ریکارڈ، سنٹرز اورجگہ جگہ اشتہارات کے زمرے میں چسپاں یا آویزاں کیے گئے ہیں جس میں (LRIMS)کا بھی ذکر ہے جس میں 30منٹ میں فرد ملکیت اور 50منٹ میں اراضی کا انتقال اندراج کرنے کا دعوی کیا گیا اس میں بھی ترمیم کرلیں تاکہ لوگ اس ایجنڈا کاپی کا مذاق نہ اڑے اور سچائی پر مبنی پریکٹس کو تسلیم کرئے جبکہ مزید اطلاعات ملی ہیں کہ فرد1500اور انتقال فیس ارجنٹ سروس کی صورت میں وصول کی جائے گی۔ جو ہم ٹیکس وصولی تصور کریں گے اس طرح کے ٹیکس یا فیس کو لیکشن کےلئے باقاعدہ پنجاب اسمبلی میں سمری بھجواکر منظوری لی جاتی ہے باقاعدہ قانون سازی بنائی جاتی ہے تاکہ بعدازاں کوئی اس کو چیلنج نہ کرسکے جبکہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت فیس وصولی کرنے والے اقدام کوکسی بھی کورٹ یا عدالت عالیہ میں باآسانی چیلنج کیا جاسکتا ہے اور آج کل معزز جج صاحبان ایسے کسی بھی اقدام کو نظر انداز نہیں کررہے ہیں بلکہ سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے جواب دہی کررہے ہیں۔ مجھے اس حوالے سے یہ بھی خدشہ ہے کہ ایکسپریس کاﺅنٹر پر وکلاءحضرات قابض ہوجائیں گے اور روٹین کی فیس میں ہی ایکسریس کاﺅنٹر استعمال کریں گے جس کے سامنے آپ کا عملہ اپنے خاص بندوں کو مشورہ بھی دے گا کہ کسی وکیل صاحب کو لے آﺅ اور ارجنٹ سروس کو روٹین میں استعمال کرو جس سے ایکسپریس کاﺅنٹر کاسارا مقصد اور حیثیت خود بخود ختم ہوجائے گی کیونکہ فیروزوالا اراضی ریکارڈ سنٹر میں بھی ایک وکیل صاحب نے اپنا کاﺅنٹر لگاکر اراضی ریکارڈ سنٹر سے سروس حاصل کی اور اعلان کیا کہ اب وکلاءکا الگ کاﺅنٹر ہوگا اور ہم الگ سے سروس حاصل کریں گے اگر ایسا ہوا تو عام آدمی بھی جذباتی ہوجائے گا اور وہ بھی اپنے حقوق کےلئے میدان میں آئے گا۔ ایک اور اہم پوائنٹ بھی ذہن میں آیا کہ اگرکوئی ارجنٹ سروس لینے کےلئے اراضی ریکارڈ سنٹر آتا ہے اور وہ5000 روپے کی فیس جمع کرواکر فوری سروس لینا چاہتا ہے تو آگے سے اس کا کھاتہ بلاک ،لنک ڈاﺅن ہوا ہو، کھیوٹ ایشو پرابلم ہو، پرانا حکم امتناعی چلا آرہا ہو،ریکارڈ کی درستگی مطلوب ہو تو پھر اس کو انتظار کی سولی پر لٹکانا اور اسے کل ٹائم دے کر بلوانے سے ناصرف عوام میں مزید غصے کا سبب بنے گا بلکہ اس صاف شفاف اور نیک نامی پر بنے اقدام کو پروپیگنڈے کے ذریعے سینہ بہ سینہ اس کی ایسی تشہیر کی جائے گی کہ انتظامیہ کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑجائے گی۔ یہ چند سوالات تو وہ ہیں جو راہ چلتے میرے زہن میں آئے ہیں اور میں نے آپ کے گوش گزاردئیے ہیں اگر اس اقدام پر آپ باقاعدہ رائے سازی کرواتے ہیں تو ایسی ایسی قانونی اور مثبت رائے آپ کو مل سکتی ہے جس کی روشنی میں اگرآپ پاسنگ کریں تو وہ زیادہ مضبوط اور مربوط ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

شہری اراضی کا ریکارڈ کمپوٹرائیشن، بورڈ آف ریونیو کے شعبہ پلس کا قابل فخر کارنامہ، جائیدادوں پر قبضے، جھوٹی درخواستیں، تنازعہ جات کا خاتمہ ہوجائے گا۔

شہری اراضی کا ریکارڈ کمپوٹرائیشن، بورڈ آف ریونیو کے شعبہ پلس کا قابل فخر کارنامہ، …