خوشحال کسان ۔۔ مضبوط پاکستان (نعمان احمد لنگڑیال)

صوبہ پنجاب لہلہاتے کھیتوں سونا اگلتے کھلیانوں باغات فصلوں دریاؤں نہروں اور سرسبزوشاداب میدانوں کا دیس ہے
وطن عزیز پاکستان میں استعمال کی جانے والی گندم کا80فیصد چاول97فیصد کپاس کا 80 فیصد یہاں کا کسان پیدا کرتا ہے پنجاب کا کسان سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی راتوں میں اپنے کھیتوں کو نہری پانی سے سیراب کرتا اور گرمی کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں گندم کی کٹائی اور چاول کے پیداواری مراحل میں گزرتا اور ملک بھر کے باسیوں کی دسترخوان سجاتا ھے مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سب کچھ کے بدلے میں پنجاب کے کسان کو آج تک سوائے نسل در نسل قرضوں کے بوجھ تلے دبے رہنے،کھاداور بیج کی مہنگے داموں خرید اور اپنی فصل کی مڈل مین کے ہاتھوں سستے داموں فروخت کے سوا کچھ میسر نہیں آیا.
گزشتہ حکمرانوں کی عدم توجہ کے باعث پنجاب کی زراعت اور کسان دونوں بری طرح متاثرہوئے.
پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آنے کے بعد جن شعبہ جات کو اپنی خصوصی توجہ کا مرکز بنایا خوش قسمتی سے زراعت کا شعبہ بھی ان میں شامل کر لیا گیا.
موجودہ جمہوری حکومت کو اس بات کا ادراک تھا کہ اگر ہم پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو زرعی ترقی کے بغیر ہم اس خواب کو شرمندہ تعبیرنہیں سکتے اسی لیے موجودہ حکومت نے مسند اقتدار سنبھالتے ہی زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے کئی ایک منصوبوں اور سکیموں پر کام شروع کر دیا. 300 ارب روپے سے وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام شروع کیا گیا صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعلی سردار عثمان بزدار کی قیادت میں زرعی پالیسی منظور کی گئی اس طرح وفاقی اور پنجاب حکومت کے تحت اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، آبپاشی کے جدید طریقوں کی ترویج ،مشینی زراعت کے فروغ،بلاسود قرضوں کے اجراء،کراپ انشورنس ،بیج اور کھادوں پر سبسڈی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا.
زراعت کی ترقی کے لیے کسان کارڈ کا اجراء کیا گیا اس کارڈ سے سبسڈی کی رقم اب براہ راست کاشتکار کے کاؤنٹ میں منتقل کی جا رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ یہ رقم جلد از جلد کاشتکار کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے .حکومت پنجاب نے ای کریڈٹ سکیم کے تحت 45 ارب روپے تک بلاسود قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا اورکھانے کے تیل کے حصول کے لیے مقامی سطح پر تیل دار اجناس کی کاشت پر کاشتکاروں کو 70 کروڑ روپے کی سبسڈی دی.
زراعت کی پیداوار بڑھانے کے لیے پیش کیے جانے والے قومی منصوبے (فیز2) کے تحت 60 فیصد سبسڈی پر جدید ڈرپ/سپرنکلر اری گیشن سسٹم اور 50فیصد سبسڈی پر سولر سسٹم کی تنصیب اورجلالپور آبپاشی منصوبہ کے تحت 30 ہزار ایکڑ رقبہ پر لیزر لینڈ لیولر سسٹم کے تحت زمین کو ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ جدید نظام آبپاشی ،آبی تالاب اور سولر پمپنگ اسٹیشن کی تنصیب کا منصوبہ بھی حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کا مظہر ہے.علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں چاول،گنا،کپاس اور دالوں کی پیداوار میں اضافے کے لئے2ارب روپے اور ملکی سطح پر زیتون کی کاشت کو بڑھوتری دینے کے لئے 1 ارب روپے کے رقم مختص کی ہے.
سردار عثمان بزدار کی زیر قیادت حکومت پنجاب نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی ترقیاتی منصوبوں کے لیے گزشتہ سال کی نسبت 300 فیصد اضافہ کیا ہے جس سے صوبہ پنجاب میں زرعی شعبہ یقینی طور پر ترقی کرے گا اور ملکی سطح پر زرمبادلہ کے حصول میں ممد و معاون ثابت ہوگا.
وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق اور سردار عثمان بزدار کی زیر قیادت زراعت کی ترقی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کےاب مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں امسال گندم کی پیداوار میں پچھلے سال کی نسبت 10 لاکھ ٹن اضافے کے ساتھ ساتھ کینولہ کی پیداوار میں بھی دو گنا اضافہ ہوا ھے اس کے علاوہ چاول،گنّا،مکئی،آلو تل،مونگ وغیرہ کی پیداوار میں بھی اس سال خاطر خواہ اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے.
حکومت وقت کا عزم بھی یہی ہے کہ کسان کی پیداواری لاگت میں کمی اور منافع میں اضافہ کیا جا سکے تاکہ ہمارا کسان،زراعت، معیشت اور ہمارا ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ھو سکے.

یہ بھی پڑھیں

لاقانونیت (عامر محمود بٹ)

لالچ بری بلا ہے جو شخص بھی لالچ میں آکر کوئی کام کرتا ہے تو …