واہ واہ کیا کہنا (عامر محمود بٹ)

ہمیشہ کی طرح آج بھی چرب زبان ، قصے خوانی ، ٹی سی ، اور واہ واہ کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے آج آپ جس بھی محکمے میں دیکھیں تو آپ کو جو کامیاب ملازم یا آفسر دیکھائی دے گا وہ واہ واہ اور جی حضوری کا ماہر ہوگا وہ اپنے آفسر کہ ایسے خود ساختہ قصے بھی بیان کرے گا جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہ ہوگا بلکہ قصے سننے کے بعد وہ آفسر سمجھے گا کہ چلو جھوٹ ہی سہی قصہ تو بن گیا اس بات پر بھی وہ خوش ہو جائے گا خوشامد ایک ایسی بلا ہے کہ اس سے بڑے بڑے بادشاہ اور شہنشاہ بھی نہیں بچ پائے درباروں میں بھی قصے خوانی اور بادشاہوں کا دل بہلانے کیلئے ایک مخصوص طبقہ کا انتخاب کیا جاتا تھا جو قصے خوانی سے دل بھی بہلاتا اور جی حضوری، خوشامد کا ترکہ لگا کر اپنا مفاد بھی سیدھا کرتا آجکل ایسی ہی صورت تاحال ضلع لاہور کے محکمہ مال کے افسران کی بھی دیکھائی دیتی ہیں جہاں محکمہ مال کے انتظامی افسران کو ایسے ہی درباری ، چرب زبان اور واہ واہ کہنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے گھیر رکھا ہے جو کہ اسسٹنٹ کمشنرز صاحبان کے گرد بھی موجودپائی جاتی ہے جوکہ لاہور کی تینوں کچہریوں میںبیٹھے ریونیو افسران اور پٹواریوںکے گردو نواح بھی دیکھائی دیتی ہے اور جو کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کے بھی گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے جن کا مقصد اور ڈیوٹی صرف اپنا مفاد پورا کرنے کیلئے ایسی ایسی مصنوعی تعریف کو بنانا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنا ہے جس سے افسران بھی خوش اور ان کی اپنی بھی دال روٹی چلتی رہے اوران کو ایسے افسران بھی راہ چلتے مل جاتے ہیں جن کو واہ واہ سننے اور کروانے میں بہت مزہ آتا ہے ضلع لاہور میں پٹواریوں کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے دوران جو بندر بانٹ ہوئی سب اس کے عینی شاہد بھی ہیں اور سب یہ بات بخوبی جانتے ہیں اس بہتی گنگا میں کس کس نے ہاتھ دھوئے ہیں اور کیا کیا مفاد پورا کیا گیا ہے یہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے پی اے صاحبان بھی سوفیصد جانتے ہیں جن میں سے جن پی اے صاحبان نے پیسے اکھٹے کیے وہ بھی اور جنہوں نے نہیں کیے وہ بھی ، ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ریاض ملک کے پاس بھی جب یہ اطلاعلات پہنچی تو انہوں نے بھی اس معاملے کی تہ تک پہنچنے کیلئے انکوائری کافیصلہ کیا اور دوسری طرف جن لوگوں کے مفاد پورے ہورہے تھے انہوں نے اپنے درباریوں اور حواریوں کو بھی چھوڑ رکھا تھا کہ آپ جاکر ڈپٹی کمشنر کے اس اقدام کی انتہائی تعریف کریں اتنی خوشامد کریں اتنا پروپیگنڈہ کریں کہ ڈی سی صاحب کا دھیان کہیں انکوائری کی طرف نہ چلا جائے ، اور اب تک وہ اپنی کامیابی کا جشن تو منا رہے ہیں مگر میں ان کو انتباہ کر دوں کہ یہ ہانڈی جب بھی پھٹے گی بیچ چوراہے پھٹے گی اس لیے آنیوالے دنوں میں صفحہ پلٹے دیر نہیں لگے گی محکمہ ریونیو کا بچہ بچہ ضلع لاہور میں پبلک انٹرسٹ کیلئے ہونے والی ٹرانسفر پوسٹنگ کے اس عمل بخوبی سمجھ چکا ہے اور جس طرح بیوروکریسی میں کل کے طاقت وار ترین سمجھے جانے والے بیورو کریٹ طاہر خورشید اب پنجاب میں یکدم ماضی بن چکے ہیں ویسے ہی یہ اقدام بھی یکدم ہی یوٹرن لیکرماضی کاحصہ بنے گاکافی سارے پٹواری احباب جن کو اس دفعہ اسسٹنٹ کمشنرز صاحبان کی خاص مہربانی سے اچھے سرکل الاٹ ہوئے ہیں وہ ناراض بھی ہوتے ہیں اور گلے شکوئے بھی کرتے ہیں اور میری تحریر کے اثرات کم کرنے کی کوشش میں بھی مصروف رہتے ہیں وہ ایسے وقت میں ایسے ہی چرب زبان ، خوشامدی ، اور قصے خوانی کی ترتیب دلانے والے واہ واہ واہ کا سہارا لیتے ہیں تاکہ سچ مچ اگر ایکشن ہو گیا تو ان کی ساری محنت ، اور دولت ضائع ہو جائے گی جو اس وقت تک وہ خرچ کر چکے ہیں اب تو ان کے کمانے کا ٹائم آچکاہے اور اب تک واقعی ہی ” پبلک انٹرسٹ “کیلئے چھریاں ٹوکے تیز کیے جاچکے ہیں اور کام زور شور سے جاری ہے محکمہ اینٹی کرپشن جو اپنے تاریخی کردار کی وجہ سے شہرت سمیٹتارہا ہے اس کی خاموشی کی وجہ بھی اب سب کو معلوم ہوتی جارہی ہے قانون اندھا ہوتا ہے مگر یہاں پر بہرہ اور گونگا بھی ہوچکا ہے ۔پبلک انٹرسٹ کا کام اگر کرنا ہے تو ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو اضافی ڈیوٹی کی بجائے بنیادی ڈیوٹیوں پر توجہ دینا ہوگی۔

عامر محمود بٹ
[email protected]
0321-6666202

یہ بھی پڑھیں

لاقانونیت (عامر محمود بٹ)

لالچ بری بلا ہے جو شخص بھی لالچ میں آکر کوئی کام کرتا ہے تو …