دوہرا معیار (عامر محمود بٹ)

یہ تو واضح ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اس وقت پنجاب کے سب سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے والے اداروں میں سرفہرست ہے۔یوں تو ادارہ کا قیام 2007 میں ورلڈ بینک کے تعاون سے عمل میں لایا گیا جس پر خطیر ر قم بھی خرچ ہوئی اور اس ادارہ کا مقصد اراضی کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنا تھا۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے میرٹ پر نہایت قابل اور کمپیوٹرائزڈ مہارت رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا گیا جنہوں نے بڑی کامیابی سے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر کے پورے جنوبی ایشیا میں ایک مثال قائم کی اور اس کی کارکردگی کو ورلڈ بینک نے بھی سراہا۔

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ادارے کے قابل اور تجربہ کار افراد کو مستقل کیا جاتا، ترقیاں دی جاتیں مگر اس کے برعکس ادارہ کے ملازمین کو عرصہ دس سال سے عارضی بنیادوں پر رکھا گیا،جبکہ ادارہ کے ملازمین کا کوئی سروس سٹرکچر نہ ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اضافی سہولیات جیسا کہ سرکاری رہائش گاہیں، پینشن، پراویڈنٹ فنڈز وغیرہ بلکہ بے شمار ملازمین کو انکوائریز کی بھینٹ چڑھا کر نوکری سے فارع کر دیا گیا۔

ان حالات میں بیشتر ملازمین محکمہ کو خیرباد کہہ چکے یا پھر کسی اچھے متبادل کے انتظار میں ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔۔۔ دوسری جانب سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نے دیہی مرکز مال کی ایک اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے پٹواریوں کو کمپیوٹرائز نظام تک رسائی دے دی ہے۔

حالیہ 15 ویں بورڈ میٹنگ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں بھی جب چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی احمد علی خان دریشک نے دیہی مرکز مال کے قیام پر سوال اٹھایا تو بابر حیات تارڑ نے ان کی تشویش کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ بورڈ ممبرز سے ووٹنگ کرانے کا کہہ دیا۔پٹوار کلچر سے وابستہ افراد کا یہ کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اراضی ریکارڈ سنٹر کے ان سٹاف کی وجہ سے ہورہا ہے جو خود کو عقل کل سمجھتے تھے اور اختیارات سے لیکررشوت وصولی کے پہ درپہ واقعات اور گرفتاریوں کے باعث پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی بدنامی کا سبب بن رہے تھے۔

اس کے علاوہ پبلک انٹرسٹ کے تمام اقدامات میں رکاوٹ ڈال کر رشوت وصولی کو فروغ دے رہے تھے جس کی وجہ سے دیہی مرکز مال جیسے سسٹم کو رائج کیا گیا۔جبکہ پنجاب لینڈ اتھارٹی کے اراضی سینٹر پر تعینات سٹاف نے بھی الزام عائد کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔۔۔کہ جو سہولتیں اس وقت دیہی مرکز مال کے سٹاف کو دی جارہی ہیں۔کیا یہ انتظامی افسران کا دوہرا معیار نہیں ہے اراضی ریکارڈ سنٹرز سٹا ف کے اعتراضی نکات بھی حاضر ہیں۔

بات کچھ یوں ہے کہ صوبے بھر کے اراضی ریکاڑد میں فرد کے اجراءسے لیکر انتقال کی تصدیق تک عوام الناس کو تنگ کرنے کیلئے ہیلپ لائن پر اپوائنٹمنٹ کی ایک کڑی شرط رکھی ہوئی ہے جس کا مقصد عوام الناس کو خوار کرنا ہے ۔۔۔دوسری جانب اب دیہی مرکز مال سسٹم میں ایسا کوئی شرط نہیں ہے بلکہ براہ راست ان کو فرد کا اجراءاور انتقال کی تصدیق کا اختیار بھی دیدیا گیا ہے۔۔۔اسطرح پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے سٹاف کو پابند کیا گیا ہے کہ ویکیسن کا ٹیکہ لگوائے بغیر کسی کو بھی سروس نہیں مہیا کرنی ہے اور دور دراز سے آئے لوگوں کو جب سروس سنٹر سٹاف کہتا ہے کہ ہم تب تک آپ کو سروس نہیں دے سکتے جب تک آپ کرونا ویکیسن نہیں لگوا لیتے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب دیہی مرکز مال سسٹم میں ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں ہے ویکیسن لگوائے بغیر بھی سروس جاری وساری ہے۔۔۔اس طرح پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے سٹاف کی بائیومیٹرک اٹینڈنس لازم ہے جو کہ ڈیوٹی ٹائمنگ بھی مانیٹر کرتی ہے اور اس کے علاوہ سی سی ٹی کیمرے بھی ان کی نگرانی پر مامور ہیں اور اس کے ساتھ ان کو موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی ہے۔

جبکہ دیہی مرکز مال سٹاف پر ایسا کوئی قانون ضابطہ نہ ہے اور وہ ایسے تمام ایس او پیز سے بالاتر رکھے گئے ہیں بلکہ قابل ذکر اطلاعلات یہ بھی ملی ہیں کہ مختلف مقامات پر انہوں نے اراضی ریکارڈ کی ایپلیکیشن کے استعمال ، ریکارڈ کی ایکسس اور فرد کے اجراءسے لیکر انتقال کی تصدیق تک کمپوٹر چلانے کے ماہر پرائیویٹ منشیوں کو تعینات کردیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف کو یہ بھی ہدایت ہے کہ سافٹ وئیر کی پرابلم کا کہ کر عوام الناس کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایکسپریس کاؤنٹر سے سروس لیں تاکہ فرد کے اجرا اور انتقال کی فیس کا ہزاروں روپے وصولی کی جاسکے اور اس پریکٹس میں عوام الناس اور اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف میں ہونے والی تو تو میں میں کے نتیجے میں جو غم وغصہ ہے اور جو کردار کشی ہے.

اس کے بھی حقدار اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف ہے۔۔۔ جبکہ دیہی مرکز مال سسٹم میں ایسی کوئی ہدایات نہیں دی گئی ہیںصوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں 220 سے زائد آسامیاں خالی ہونے کے باوجود اراضی ریکارڈ سنٹرز سٹاف اضافی بوجھ کو سنبھالے ہوئے کام کرنے میں مصروف ہے ۔۔۔جبکہ دیہی مرکز مال میں پٹواریوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ منشی بھی بالکل مفت دستیاب ہیں۔

عامر محمود بٹ
[email protected]
0321-6666202

یہ بھی پڑھیں

لاقانونیت (عامر محمود بٹ)

لالچ بری بلا ہے جو شخص بھی لالچ میں آکر کوئی کام کرتا ہے تو …