ستم بالا ستم (عامرمحمودبٹ)

بے روزگاری ، تفرقہ اور اقربا پروری نے جہاں معاشرے کو اپنی لپیٹ میں بری طرح جکڑ رکھا ہے وہاں آج جس بھی محکمہ کی سمت نظر دوڑائی جائے تو وہاں لابی سسٹم ، لاقانونیت ، اختیارات کا ناجائز استعال ، پسند نا پسند کی بنا پر ٹرانسفر پوسٹنگ اور خلاف قانون مقدم ایگزیکٹو لیٹر کے ذریعے کام چلانے کی مثالیں واضح نمایاں نظر آتی ہیں۔ضلع لاہور میں پٹواریوں کی ٹرانسفر پوسٹنگ کی یہ تاریخ مورخہ 28-7-2021 اب ایک تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔

محکمہ مال کے پٹواریوں کی یہ ایک خوبی بھی ہے اور ایک خامی بھی ہے جس کی میں نشاندھی کرنے لگا ہوں خوبی یہ ہے کہ یہ کبھی بھی ایسے تاریخی اقدام کو بھولنے نہیں دیتے ہیں اور یہ اس طرح کے اقدامات کو دوہراتے بھی رہتے ہیں اور یاد کرواتے بھی رہتے ہیں اگر کوئی بھولنے کی کوشش بھی کرے تو یہ بھولنے نہیں دیتے محکمہ مال میں اگر کوئی اچھا افسر آجائے تو یہ اس افسر کو ہمیشہ دل میں بسا لیتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں اور اگر کوئی برا افسر آجائے تو یہ اس کے بھی قصے اپنے منشیوں کو اور عام پبلک میں بھی خوب سناتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے زہن نشین رہے۔

ضلع بھر میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز پبلک انٹرسٹ کیلئے اب پٹواریوں کے چارج تبدیل کروانے پر زور لگا رہے ہیں اور ہر کسی کو یہ زبانی حکم دیتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی ہدایت ہے کہ فوری چارج تبدیل کروا دئیے جائیں ۔جن پٹواریوں کو پٹوار خانے میں تعینات ہوئے ہی دس دس پندرہ پندرہ روز ہوئے تھے ان کے بھی دوبارہ تبادلے کر دیے گئے۔جن پٹواریوں کے جنرل تبادلوں کی پہلی لسٹ نکالی گئی تھی بعد ازاں ان کی مشاورت کے بعد دوبارہ لسٹ جاری کر کے ان کو مرضی کے مطابق اڈجسٹ کیا گیا۔

متعدد ایسے پٹواری بھی تحصیل حاضر دکھائی دئیے جن کو بالکل ہی نہیں بلوایا گیا کیوں کہ وہ اس جنرل تبادلے کی شرائط پوری کرنے سے قاصر تھے ۔جن پٹواریوں کو ان کے سرکل سے کرپشن ، اور سنگین شکایات کی بنیاد پر معطل کیا گیا اور پٹوار خانے سے سرنڈر کیا گیا ان پٹواریوں کو بھی واپس ان کی مشاورت کے بعد اسی سرکل میں پبلک انٹرسٹ کیلئے تعینات کر دیا گیا ۔متعدد پٹواریوں کو ان کی جگہ سے بالکل نہیں چھیڑا گیا اور وہ وہی پر ہی پرسکون انداز میں کام کرتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔

بعض خوش قسمت پٹواریوں کو وقفے وقفے سے جاری ہونے والے جنرل تبادلے کے نوٹفکیشن میں اڈجسٹ کرتے ہوئے من پسند سرکلوں سے نواز دیا گیا اور مبینہ طور پر ملنے والی اطلاعلات کے مطابق اس کام کا باقدعدہ معاوضہ بھی موصول کیا گیا ۔ضلع لاہور کی پانچ تحصیلوں کے اسٹنٹ کمشنرز کے پی اے صابان میں سے کس نے کتنی لوٹ مار کی اور کون سا پی اے صاف شفاف کردار کا مالک رہا یہ تمام نام اب زبان زد عام ہوچکے ہیں۔

اینٹی کرپشن کے مقدمات ، عدالتوں اور محکمانہ انکوائریوں میں سنگین الزامات میں ملوث پٹواریوں کی تعیناتی کو بھی سب نے سرعام دیکھا ، سورس رپورٹ مرتب کرنے اور کرپشن کا از خود نوٹس لینے والا ادارہ محکمہ انسداد رشوت ستانی بھی خاموش اور چپ چاپ نظر آیا سینکڑوں لوگوں کو یہ امید تھی کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کی آڑ میں مبینہ اطلاعات کے مطابق چلنے والی رشوت وصولی پر ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن وسیم سندھو نوٹس لیں گے مگر ،،،، سسٹم اس دفعہ تگڑا بھی دیکھائی دیا اور خود سر بھی جو پیسے خرچ کر کے آئیں ہیں اب وہ پوری طاقت سے اسی پبلک سے پیسے اکٹھے کریں گے.

جن کے انٹرسٹ کیلئے انہوں نے آڈر کروائے ہیں اور ان اس کرپشن کے اثرات میں بے پناہ اضافہ نمایاں طور پر دیکھائی دے گا جو سفارشی طور پر سامنے آئے ہیں وہ اُن کے ڈیرے سجائیں گے اور اُن کے جائز و ناجائز کاموں کو بھی پورا کریں گے اور جن کو خود بخود لگا دیا گیا ہے وہ بھی کسی امتحان کا حصہ بنیں گے۔

اس با ت میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا ہرافسر دبنگ بننے کی خواہش رکھتا ہے مگر حقیقت میں وہی لوگ یہ اعزاز حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں جو محب الوطن ہوں اور اپنے فرائض کو ملک و قوم کی امانت اور ان کی خدمت سمجھ کر سرانجام دیے ہوں ۔

عامر محمود بٹ
[email protected]
0321-6666202

یہ بھی پڑھیں

لاقانونیت (عامر محمود بٹ)

لالچ بری بلا ہے جو شخص بھی لالچ میں آکر کوئی کام کرتا ہے تو …