ڈاکٹر مکھیاں

(میڈیا پاکیستان)شہد کی مکھی کا ڈنک کھانا انتہائی اذیت ناک تجربہ ہے اور اگر خدانخواستہ ان مکھیوں کا غول حملہ کردے تو اپنے شکار کو موت کے قریب بھی پہنچا سکتاہے۔اس طرح کے کئی واقعات وطن عزیز میں خاص طور پر معروف شخصیات کے جنازوں میں وقوع پذیر ہو چکے ہیں اب معلوم نہیں جان بوجھ کر شہد کی مکھیوں کے چھتوں کو چھیڑا گیا یا یہ اتفاق تھا معاملات جو بھی تھے شرکا ء کئی دنوں تک بے حال رہے ۔ظاہر ہے ایسے میں اس مخلوق سے دور رہنا ہی بہتر ہے لیکن جدید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد کی مکھیاں درد کا درماں بھی بن سکتی ہیں۔شہد کی مکھی کے ڈنک سے جو اذیت ناک درد پیدا ہوتاہے اس میں ایک دوا پوشیدہ ہے جو گنٹھیا،ہڈیوں اور اعصاب کی کئی بیماریوں کیلئے شفا بخش علاج ہے۔ایپس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں شہد کی مکھی۔ اسی لفظ سے بنا ہے ایپی تھراپی(APITHERPY )یعنی شہد کی مکھی کے ذریعے سے علاج کا طریقہ۔
ایپی تھراپی پرامریکہ میں ان دنوں زوروشور سے تجربات جاری ہیں جبکہ141چندماہ قبل 25تا 29اپریل 2017کو اسپین میں ایپی تھراپی کانفرنس منعقد ہوئی ۔گزشتہ دنوں اس مقصد کے لیے آفیشل ٹیسٹ کئے گئے۔امریکہ میں مرکزی اعصابی نظام کی بیماری ملٹی پل اسکلیروسس کے پانچ لاکھ مریض موجود ہیں یہ بیماری مریض کو معذور بھی کرسکتی ہے۔امریکن ایپی تھراپی ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ شہد کی مکھی کے ڈنک سے علاج کرانے والے 1000مریضوں کو اس علاج سے فائدہ پہنچا ہے۔واشنگنٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے میڈیکل یونٹ کے ترجمان کا کہنا ہے ’’ہمیں درجنوں لوگوں کے فون موصول ہوئے جو خود کو ان تجربات سے رضا کارانہ طورپر پیش کرنا چاہتے تھے۔یہ طریقہ علاج نہایت تیزی سے مقبولیت حاصل کررہا ہے تاہم ابھی تک اس کے حفاظتی اصولوں یا خوراکوں کی درکار مقدار کا تعین نہیں ہوسکا ہے جس پر تحقیق جاری ہے۔اس حوالہ سے امریکن ایپی تھراپی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام10تا12نومبر2017کوکیلیفورنیا امریکہ میں ایک اہم ایپی تھراپی کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
شہد کی مکھی کے زہر سے علاج کے آزمائشی تجربات امریکہ میں حال ہی میں شروع ہوئے ہیں تاہم یہ طریقہ علاج چین کے طبیبوں میں گزشتہ پانچ ہزار سال سے رائج ہے جو گنٹھیا اور جوڑوں کی سوزش کے لیے اسے پشت درپشت استعمال کرتے آئے ہیں۔
شہد کی مکھی کے ڈنک کے علاج کے بارے میں پوری طرح قائل افراد میں مغربی لندن کے علاقے دیمبلے کا باسی ٹونی چیسٹر خصوصاََ قابل ذکر ہے شہد کی مکھیاں پالنا 59سالہ ٹونی کا مشغلہ تھا۔اسے دونوں کولھوں اور ٹانگوں کے جوڑوں میں شدید سوزش کی شکایت تھی حتٰی کہ چند سال پہلے وہ ہلنے جلنے سے بھی معذور ہوگیا۔‘‘ میں کسی انتہائی ضعیف شخص کی طرح جسم کو جھٹکا دے کر قدم اٹھاپاتا تھا۔’’ٹونی نے بتایا‘‘ پھر ایک شہد کی مکھی نے اتفاقاًََ میرے پاؤں کے اندرونی حصے پر کاٹ لیا میرا ٹخنا اور پاؤں خاصا حصہ سوج گیا تکلیف بھی خاصی ہوئی، لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ میرے جسم کے اس حصے کے جوڑوں کے درد میں واضح کمی ہوئی ہے۔تجسس کے شکار ٹونی نے اس کے بعد جان بوجھ کر شہد کی مکھیوں سے اپنے بائیں ٹخنے‘ گھٹنے‘ کولھے اور کمر کے نچلے حصے پر کٹوایا۔’’یہ انتہائی اذیت ناک تجربہ تھا‘ ورم بھی تین چاردن رہا لیکن چند دن بعد میں نے یہی عمل اپنے جسم کے داہنے حصے پر بھی دہرایااور یقین کیجئے کہ اس نے معجزے کا ساکام کیا میرا جوڑوں کا درد مکمل طورپر ختم ہوگیااور پھردوبارہ نہیں ہوا۔جتنا متحرک میں اب ہوں‘ زندگی میں پہلے کبھی نہیں رہا۔اس دوران میں ورزش بھی کرتا رہا ہوں تاہم مجھے اس کے بعد جان بوجھ کر مکھیوں سے خود کوکٹوانے کی ضرورت نہیں پڑی۔
ڈاکٹر جم ہگنز گزشتہ آٹھ سال سے ایپی تھراپی پر عمل پیراہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ اس طریقہ علاج سے کامیابی کا تناسب لگ بھگ سوفی صد ہے۔وہ ملٹی پلاسکیروسس‘ گنٹھیا‘ جوڑوں کی سوزش‘ اعصابی نظام کے مسائل اور ایگز یماوغیرہ کے 330مریضوں کا علاج کر چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے’’مکھی کا ڈنک بہ ذات خود کوئی علاج یا دوا نہیں ہے تاہم یہ بیرونی طورپر جسم میں انجکٹ ہونے کے بعد دفاعی نظام کو بیدار اور متحرک کردیتا ہے‘ یہ آپ کے جسم کے دفاع کو بھر پورانداز میں رواں دواں کرتا ہے اور بیشترافراد مکمل طورپر نہیں تو خاصی حد تک اپنے مسائل سے نجات حاصل کرلیتے ہیں۔تاہم ڈاکٹر ہگنز کا کہنا ہے کہ باقاعدہ علاج شروع کرنے سے پہلے مریض کو آزمائشی طورپر ایک دو شہد کی مکھیوں سے کٹوانا ضروری ہے کیونکہ شہد کی مکھی کا زہر محدودے چندبعض افراد کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔ ایسے حساس افراد کو شہد کی مکھی کے زہر سے شدید الرجی ہوسکتی ہے جس کا نتیجہ ہارٹ فیل ہونے کی صورت میں نکل سکتاہے۔تاہم ایسا ایک فیصد سے بھی کم ہونے کا احتمال ہے۔
امریکہ سمیت متعدد ممالک میں شہد کی مکھیوں کے ڈنگ سے آرتھرائٹس اور فائبرو ملیگیا سمیت کئی بیماریوں کا علاج کیا جا رہا ہے کیونکہ ان امراض میں ایلوپیتھک طریق علاج بھی عاجز ہے ایپی تھراپی کے تحت بعض اوقات مریض کوایک دن میں درجنوں مرتبہ ڈنگ مروایا جاتا ہے۔لاس اینجلس کی رہائشی ایک خاتون کا کہناہے کہ اسے جوڑوں کا درد رہتا تھا اس نے ایک دن میں شہد کی مکھیوں سے 80ڈنگ مروائے جس کے نتیجہ میں اس کا درد خاصی حد تک کم ہوگیا ہے۔
جنوبی کوریا کی یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شہد کی مکھی کے ڈنگ سے سوجن بھی کم ہوجاتی ہے ۔
کچھ عرصہ قبل یونان کی ایک یونیورسٹی میں چوہوں پرکی جانے والی تحقیق میں بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ شہد کی مکھیوں کے ڈنگ سے ان میں ہڈیوں کی بیماری بہت کم ہوگئی ہے۔
سال رواں2017تیونس میں شہد کی مکھی کا ڈنگ کئی بیماریوں کا مقبول ترین طریقہ علاج بن گیا ہے۔ تیونس میں جوڑوں کے درد، معدہ کی سوزش، اپاہج پن اور آنتوں کی جلن سمیت متعدد بیماریوں کیلئے مکھی کا زہر تریاق ثابت ہو رہا ہے۔ تیونس کے طبی ماہرین کے مطابق شہد کی مکھی کے زہر میں 300سے زائد جراثیم کش مواد پائے جاتے ہیں۔ تیونس کے مشہور معالج ڈاکٹر شطورو 5ہزار مریضوں کاایپی تھراپی سے علاج کر چکے ہیں۔
انیس سو بیس اور انیس سو تیس کی دہائیوں میں رو س کے کچھ معالجوں نے جو تحقیق کی اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شہد کی مکھی کے زہر سے پیرا تھائرائڈگلینڈ کوکارٹیسول نامی ہارمون پیدا کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ یہ ہارمون مانع ورم ہوتا ہے۔ بعض تحقیق کاروں نے خیال ظاہر کیاہے کہ یہ زہر اینڈروفن پیدا کرتا ہے۔ یہ کیمیائی مادہ درد کو دور کرتا ہے۔
زمانہ قدیم سے مگسی معالج کے ذریعے سے متعدد بیماریوں کا علاج ایپی تھراپی سے ہوتا رہا ہے۔ جن میں گنج پن سے لے کر کتے کے کاٹے تک کا علاج شامل تھا۔
قدیم مصری باشندے شہد کی مکھی کے ڈنگ سے گنٹھیا کا علاج کرتے تھے۔ بعض یورپی ملکوں میں قرون وسطی میں شہد کی مکھی کو جلاکر تیل میں اس کا محلول تیار کرتے تھے اور پھر اس کے لیپ سے جسم کے مختلف حصوں میں درد کا علاج کرتے تھے۔ یورپ میں ایسی مشہور ہستیاں بھی گزری ہیں جنھوں نے شہد کی مکھی کے زہر سے اپنے جوڑوں کے درد کا علاج کیا ۔شہد کی مکھی سے حاصل شدہ اشیا سے تیار کردہ بعض دوائیں بظاہر اپنی جراثیم کش اور شفا بخش خصوصیات کے لیے مشہور ہیں۔ایپی تھراپی چین میں کم وبیش پانچ ہزار سال سے رائج ہے۔ وہاں آکیوپنکچر کے ماہر بھی شہد کی مکھی کے زہر سے کام لیتے ہیں۔جن جگہوں پر آکیوپنکچر کی جاتی ہے ان جگہوں پریہ ماہر براہِ راست اس زہر کو لگاتے ہیں۔ اس سے بظاہر شفایابی کے عمل میں سرعت پیدا ہوتی ہے۔ بعض سائنس دانوں نے یہ تجربہ بھی کیا کہ شہد کی مکھی کے زہر کو ٹیکے کی شکل میں جسم میں داخل کیا،لیکن یہ خاصا مشکل اور پیچیدہ عمل ہے، جو لوگ اس طریق علاج پر اعتقاد رکھتے ہیں ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ مکھی کے جسم سے نکالا ہوا زہر وہ تاثیر نہیں رکھتا جو براہ راست اس کے جسم سے ڈنک کے ذریعے سے انسانی جسم میں منتقل ہونے والے زہر میں ہوتی ہے۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قائم ایک کلینک کے ماہر وانگ مینگلِن کے مطابق ان کے پاس اب تک 27ہزار افراد علاج کی غرض سے آ چکے ہیں۔ مینگلِن نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ شہد کی مکھی سے ڈنگ لگوانا یقینی طور پر تکلیف دہ عمل ہے لیکن زیادہ تکلیف دہ امراض سے نجات کیلئے یہ بہت معمولی تکلیف ہے۔ایپی تھراپی کے ماہر وانگ مینگلِن نے بتایا کہ وہ شہد کی مکھی کو پکڑ کر مریض کے بدن پر بیماری کے مقام پر رکھ کر مکھی کے سر کو زور سے اس وقت تک دبائے رکھتے ہیں جب تک وہ اپنا ڈنگ نکال کر زہر مریض کے بدن میں نہیں اتار دیتی۔ وانگ کے مطابق اس طریقہ علاج سے کینسر سے لے کر گنٹھیا تک کے درجنوں مریضوں کو شفا نصیب ہو چکی ہے۔وانگ مینگلِن کے مطابق شہد کی مکھی کا ڈنگ خاص طور پر مفلوج شدہ نچلے دھڑ کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ وانگ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ شہد کی مکھی کا ڈنگ مدافعتی علاج کے طور پر بھی بہت اثر پذیر ہے۔
وطن عزیز میں بھی ایپی تھراپی کے متعدد معالجین موجود ہیں جوکہ شہد کی مکھی کے ڈنگ سے آرتھرائٹس ‘جوڑوں کے درداور دیگر متعدد امراض کا کامیابی سے علاج کر رہے ہیں۔غرضیکہ دنیا بھر میں ایپی تھراپی کئی پچیدہ اور لاعلاج امراض خصوصاً پین مینجمنٹ کے حوالہ سے بے حد مقبول ہو رہا ہے۔**

یہ بھی پڑھیں

امریکا میں سات فٹ لمبے اژدھے کا 100میل کا سمندری سفر

امریکا میں سمندری سفرکے شوقین اژدھے نے سومیل کا سفرطے کرلیا۔ امریکی خبررساں ادارے کے …