35سال کی عمر میں ملازمت سے نفرت

  واشنگٹن …. محققین کاکہنا ہے کہ لوگ 35سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد اپنی موجودہ ملازمت سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ اگر ملازمین کے کام کی تعریف نہ کی جائے اور انکی حوصلہ شکنی کی جائے تو وہ اس سے قبل ہی ملازمت چھوڑنے پر غور کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ 35سے 54سال تک کی عمر کے 16فیصد لوگ ملازمتوں سے ناخوش ہوتے ہیں۔ بڑی عمر کے ملازمین کو زیادہ دباﺅ کا سامنا ہوتا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انکے کام کی تعریف نہیں ہورہی۔ ساتھ ہی ان ماہرین کا کہناتھا کہ اگر دفتر میں کام کرنے والوں کو سیکھنے کے مواقع دیئے جائیں اور وہ خود بھی اپنے کیریئر کاہدف مقرر کرلیں تو اس سے انہیں بڑی مدد ملے گی۔ نوجوان خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ دفتر کا ماحول کام کے لائق نہیں رہا تو وہ پھر اچھی ملازمت کےلئے تلاش شروع کردیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 20فیصد لوگ اپنی ملازمت سے ناخوش ہیں۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب انہیں کام کے دوران کوئی کامیابی نہ ملی ہو اور وہ کام سے تھک گئے ہوں یا پھر وہ سمجھتے ہوں کہ کام سے زیادہ انکی فیملی انکے لئے اہم ہے۔ نفسیات دانوں کا کہناہے کہ آپ کو خود سے سوال کرنا چاہئے کہ ”میں یہ سب کچھ کس کیلئے کررہا ہوں؟“ ۔رپورٹ کے آخر میں کہا گیاہے کہ دفتر کا ماحول بوڑھے کارکنو ںکو زیادہ متاثر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا میں سات فٹ لمبے اژدھے کا 100میل کا سمندری سفر

امریکا میں سمندری سفرکے شوقین اژدھے نے سومیل کا سفرطے کرلیا۔ امریکی خبررساں ادارے کے …